متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں جعلی نوکریوں کا بڑھتا خطرہ، ملازمت کے خواہشمند افراد فراڈ اور قانونی مشکلات سے کیسے بچیں؟

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ملازمت کے خواہشمند افراد کو جعلی جاب آفرز سے محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے کیونکہ فراڈ کرنے والے افراد جعلی ویب سائٹس، پروفیشنل نظر آنے والی دستاویزات اور سوشل میڈیا پروفائلز کے ذریعے امیدواروں کو دھوکا دے رہے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق کسی جعلی کمپنی کی جانب سے ملازمت کی پیشکش قبول کرنا بذاتِ خود جرم نہیں تاہم اگر کوئی شخص جان بوجھ کر مجرمانہ سرگرمی میں مدد کرے یا مشکوک رقوم کے لین دین کو جاری رکھے تو اسے قانونی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ماہر قانون ایگور ابالوف کے مطابق امیدوار کی ممکنہ قانونی ذمہ داری اس کے اپنے عمل اور اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ اسے غیر قانونی سرگرمی کا علم تھا یا حالات ایسے تھے کہ اسے خطرے کا اندازہ ہوجانا چاہیے تھا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ذاتی بینک اکاؤنٹ کے ذریعے کمپنی کی رقم وصول کرنے یا آگے منتقل کرنے کی درخواست، معمولی کام کے عوض غیر معمولی معاوضہ، رقم مختلف اکاؤنٹس میں تقسیم کرنے، اجنبی افراد کو رقم بھیجنے، رقم کو کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرنے یا پیغامات ڈیلیٹ کرنے کی ہدایت خطرے کی واضح علامات ہوسکتی ہیں۔

ماہرین نے کہا ہے کہ اگر کسی امیدوار کے ذاتی اکاؤنٹ میں مشکوک رقم منتقل ہوجائے تو اسے رقم نکالنے، کسی دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے یا فراڈ کرنے والے شخص کی ہدایت پر واپس بھیجنے کے بجائے فوری طور پر اپنے بینک کی فراڈ یا کمپلائنس ٹیم سے رابطہ کرنا چاہیے۔

اگر کسی شخص نے پہلے ہی رقم ادا کردی ہو یا اپنی شناختی دستاویزات شیئر کردی ہوں تو اسے مزید کوئی ادائیگی نہیں کرنی چاہیے اور فوری طور پر بینک سے رابطہ کرکے مشکوک ٹرانزیکشن کی اطلاع دینی چاہیے۔ معاملے کی اطلاع پولیس یا متعلقہ سائبر کرائم حکام کو بھی دی جانی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق ملازمت کے امیدواروں کو جعلی اشتہار، ویب سائٹ، ای میلز، فون نمبرز، چیٹس، معاہدوں، رسیدوں اور بینک ٹرانزیکشنز سمیت تمام شواہد محفوظ رکھنے چاہئیں۔

ماہرین نے واضح کیا کہ ملازمت حاصل کرنے کے لیے امیدوار سے رقم طلب کرنا بڑا ریڈ فلیگ ہے۔ سی وی سروس، لازمی ٹریننگ، انٹرویو، کمپنی سے تعارف یا نوکری حاصل کرنے کے لیے کسی قسم کی فیس طلب کی جائے تو امیدوار کو انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔

امیدواروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کمپنی کی ویب سائٹ، لنکڈ اِن پروفائل اور بھرتی کرنے والے شخص کی شناخت خود تصدیق کریں اور کمپنی سے رابطے کے لیے وہی فون نمبر یا ای میل استعمال کریں جو آزادانہ طور پر حاصل کیا گیا ہو۔

اسی طرح ابتدائی مرحلے میں غیر ضروری طور پر پاسپورٹ، ایمریٹس آئی ڈی، بینک تفصیلات، کارڈ کی معلومات، پاس ورڈز یا ون ٹائم پاس ورڈز کسی غیر تصدیق شدہ شخص کے ساتھ شیئر نہ کیے جائیں۔

متحدہ عرب امارات میں نجی شعبے کی ملازمت کے لیے امیدوار سرکاری ذرائع سے جاب آفر کی تصدیق بھی کرسکتے ہیں۔ وزارت انسانی وسائل و اماراتائزیشن یعنی MoHRE کی منظور شدہ جاب آفر پر موجود سیریل نمبر یا بارکوڈ کے ذریعے اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔

ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ملازمت کی پیشکش میں غیر معمولی طور پر زیادہ تنخواہ، بغیر مناسب انٹرویو فوری آفر، فوری طور پر رقم منتقل کرنے کا دباؤ یا صرف ذاتی موبائل نمبر کے ذریعے رابطہ بھی ممکنہ فراڈ کی علامات ہیں۔

حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ نوکری کی پیشکش ملنے کی خوشی یا فوری ملازمت کی خواہش میں بنیادی تصدیقی مراحل کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کسی جاب آفر میں رقم بھیجنے، ذاتی بینک اکاؤنٹ استعمال کرنے یا حساس معلومات فوری فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جائے تو امیدوار کو فوراً رک کر آزادانہ طور پر کمپنی اور آفر کی تصدیق کرنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button