متحدہ عرب امارات

شارجہ میں مسجد کو مقدس قرآن مجید کی یادگار سے ملانے کے لیے زیر زمین پیدل سرنگ تعمیر کی جا رہی ہے

خلیج اردو
شارجہ میں مسجد کو مقدس قرآن مجید کی یادگار سے ملانے کے لیے زیر زمین پیدل سرنگ تعمیر کی جا رہی ہے۔ شارجہ کے حکمران شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے اعلان کیا ہے کہ کلچرل اسکوائر میں امام احمد بن حنبل مسجد اور اطراف کے علاقوں کے درمیان محفوظ آمدورفت کے لیے یہ سرنگ بنائی جا رہی ہے۔ اس منصوبے سے نمازیوں اور دیگر افراد کو ٹریفک متاثر کیے بغیر سڑک عبور کرنے کی سہولت ملے گی، جبکہ چوک کی خوبصورت تزئین و آرائش اور پھولوں کو بھی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اس مقام پر تصاویر بنانا بھی آسان ہو جائے گا۔

شیخ سلطان نے شارجہ براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے پروگرام ڈائریکٹ لائن میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جامع عربی انسائیکلوپیڈیا کے دوسرے حصے کی رونمائی 45ویں شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر میں کی جائے گی، جس کا آغاز 4 نومبر کو ایکسپو سینٹر شارجہ میں ہوگا۔ اس حصے کی اشاعت کے بعد انسائیکلوپیڈیا کی مکمل ہونے والی جلدوں کی تعداد 130 ہو جائے گی۔ اس منصوبے کو چار سال میں چار حصوں کے تحت مکمل کرنے اور مجموعی طور پر 500 جلدیں شائع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

انسائیکلوپیڈیا کی پہلی 46 جلدیں گزشتہ سال مکمل ہوئی تھیں، جن میں سائنس، ادب، فنون اور اہم شخصیات سے متعلق مواد شامل تھا۔ اس سال ادب اور فنون کے مختلف شعبوں پر کام کے لیے مزید 300 محققین اس منصوبے کا حصہ بنے، جس کے بعد محققین کی مجموعی تعداد 1300 ہو گئی ہے۔ اس علمی منصوبے کا مقصد مختلف شعبوں کی معلومات کو یکجا کرکے محققین اور قارئین کے لیے تحقیق کو آسان بنانا ہے۔

شارجہ کے حکمران نے اسلامی اور عرب باغات میں نصب ان ستونوں کا بھی ذکر کیا جن پر نامور مفکرین کی زندگیوں اور علمی خدمات کے بارے میں معلومات درج ہیں۔ اس منصوبے کو ’’تعلیم دیتا ہے اور سیکھتا ہے‘‘ کا نام دیا گیا ہے، تاکہ والدین اپنے بچوں کو اسلامی اور عرب تہذیب کی اہم شخصیات سے روشناس کرا سکیں۔

شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر میں بحرہند میں پرتگالی تاریخ پر مشتمل 60 جلدوں کا مجموعہ بھی پیش کیا جائے گا، جس میں موزمبیق سے انڈونیشیا تک کے علاقوں سے متعلق تاریخی دستاویزات شامل ہیں۔ ان دستاویزات کی جانچ پڑتال میں ایک سال لگا۔ اس مجموعے کی 61ویں جلد میں مشکل الفاظ، بادشاہوں اور وزرا کے ناموں کی وضاحت کی جائے گی۔ یہ کتابیں عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع ہوں گی۔

شیخ سلطان نے برطانوی، ڈچ اور عثمانی سلطنتوں کے تاریخی تعلقات پر مشتمل ایک اور تصنیف کا بھی ذکر کیا۔ اس کے علاوہ خلیجی خطے میں 1806 سے برطانوی موجودگی اور ان کے انخلا تک کے دور پر ایک نئی کتاب تیار کی جا رہی ہے، جس میں تاریخی دستاویزات شامل ہوں گی۔ شیخ سلطان کے مطابق وہ تاریخی مخطوطات کی خود جانچ کرتے ہیں اور ہر لفظ اور رموزِ اوقاف کی صحت کی ذمہ داری لیتے ہیں۔

انہوں نے نوجوانوں میں مطالعے، تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علم کے حصول کے لیے ذاتی محنت، فکری کوشش اور لگن ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی نسل کو اپنی تاریخ اور تہذیبی ورثے کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ علمی شعور اور خود اعتمادی کے ساتھ معاشرے کی ترقی میں کردار ادا کر سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button