متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات : بیماری کی وجہ سے ایک ٹانگ سے محروم ہونے والا باہمت پاکستانی اب کیا چاہتا ہے؟

خلیج اردو
15 مارچ 2021
شارجہ : شارجہ میں رہنے والا پاکستان جس نے بیماری کی وجہ سے اپنی ایک ٹانگ کھو دی ہے وہ اسے کوئی عزر بنانے کے بجائے اب محنت سے اپنی زندگی کی بحالی کیلئے کوشاں ہیں۔

خوراک سے متعلق ایک کمپنی میں بطور مینٹیننس منیجر کام کرنے والے محمد شکیل خان کی ایک ٹانگ شوگر کی وجہ سے ضائع ہوگی ہے اور آُریشن کرکے گھٹنے سے اوپر سے اس کی ٹانگ کو خاٹ دیا گیا ہے۔

67 سالہ شکیل خان کے پاس اپنی خراب صحت کی وجہ سے رقم نہ ہونے کے برابر ہے اور تبگدستی کے مارے اب وہ کام کی تلاش میں ہے اور وہ ایسا کام چاہتا ہے جس سے وہ اپنی زندگی بہتر بنانے میں کامیاب ہوجائے۔

ان کئ مطابق وہ نقلی ٹانگ لگانے کیلئے 38000 درہم کا ضرورمند ہے جو اس کے پاس نہیں ہے تاہم پاکستان میں یہ ٹانگ 15000 کی ملتی ہے۔ شکیل خان 43 سال پہلے متحدہ عرب امارات آیا تھا۔

شکیل خان کے بائیں پیر میں زخم آنے کی وجہ سے اس کی صحت بگڑتی گئی تو وہ اگست میں کرونا کے سلسے میں اسپتال میں داخل کرائے گئے۔ تاہم ستمبر میں اس کے پیر سے خون کا آنا شروع ہوگیا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسے بچانے کیلئے اس کا یہ پاؤں کاٹنا پڑے گا۔

دو بچوں کے باپ شکیل خان کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اب کوئی راستہ نہیں بچا سوائے اس کے کہ وہ نقلی ٹانگ لگائے اور پھر کوئی نوکری تلاش کرکے اپنی زندگی کو واپس بہتر بنائیں۔

شکیل خان کے مطابق وہ گھر پر بیٹھنا یا آرام کرنا نہیں چاہتا اور ان کی معزوری انہیں کام سے روکنا کا سبب بن رہی ہے۔ اس کے مطابق اس کی ایک بیٹی اور بیوی کے ساتھ وہ رہتا ہے جبکہ اس کی دوسری بیتی شادی شدہ ہے۔ جو بیٹیہ باپ کے ساتھ رہائش پزیر ہے وہ ایک اسکول ٹیچر ہے۔

شکیل خان 1978 میں کراچی سے متحدہ عرب امارات آئے اور وہ پیشہ سے ایک انجنیئر تھے۔ وہ یہاں ریفریجریشن سپروائزر کے طور پر آئے اور پھر ایک خوراک سے متعلق کمپنی میں 30 سالون کیلئے کام کیا۔ 2018 میں اس کی کمپنی بند ہوگی اوراس کا مالک فرار ہوااور پھر وہ معمولی نوکریان کرتا رہا جب تک کہ وہ اپنی ٹانگ ضائع نہ کر گیا تھا۔

شکیل خان کے مطابق اس پر کسی کا قرضہ نہیں ہے اور اس کی 6500 تنخواہ تھی لیکن کھبی خود کو قرضوں میں نہیں ڈبویا۔ متحدہ عرب امارات میں 4 دہائیوں سے رہتے ہوئے میں نے قربانیاں دیں تاکہ گھر چلا سکوں۔ ہم نے باحظیت ایک خاندان کے کھبی ایک ساتھ ابوظبہی یا العین نہیں دیکھا کیونکہ میں اپنے کام میں مصروف تھا۔ تاہم اب مجھے ایک موقع چاہیئے کہ میں اپنے پیروں پر کھڑا ہوجاؤں۔

Source : Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button