متحدہ عرب امارات

چینی کمپنی اریج کا دبئی میں پہلا انسان بردار فلائنگ کار ٹیسٹ کامیاب، جی سی سی ممالک سے 600 آرڈرز حاصل

خلیج اردو
دبئی، 12 اکتوبر 2025

چینی فلائنگ کار ساز کمپنی "اریج” (Aridge)، جو پہلے "ایکس پینگ ایروہٹ” (Xpeng Aeroht) کے نام سے جانی جاتی تھی، نے دبئی میں اپنا پہلا انسان بردار فلائنگ کار ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ اس موقع پر کمپنی نے خلیجی ممالک سے 600 نئے آرڈرز حاصل کرنے کا اعلان بھی کیا، جس کے بعد اس کے عالمی پری آرڈرز کی مجموعی تعداد 7,000 سے تجاوز کر گئی۔

اریج کا جدید "لینڈ ایئرکرافٹ کیریئر” ایک منفرد ماڈیولر فلائنگ کار تصور ہے، جس میں ایک زمینی گاڑی کے پچھلے حصے میں دو نشستوں والا برقی ای وی ٹول (eVTOL) نصب ہوتا ہے۔ یہ ڈیزائن زمینی سفر اور پرواز کے درمیان بآسانی منتقلی کی اجازت دیتا ہے۔

کمپنی کے چیف فنانشل آفیسر مائیکل چاؤ ڈو کے مطابق، یہ 600 آرڈرز یو اے ای کے علی اینڈ سنز گروپ، قطر کے المانع گروپ، کویت کے السایر گروپ، اور یو اے ای میں چائنیز بزنس کونسل کی جانب سے دیے گئے — جو چین کے باہر فلائنگ کارز کی سب سے بڑی اجتماعی خریداری ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اریج کی صارفین کے لیے فروخت 2027 سے شروع ہونے کی توقع ہے۔

ڈو نے کہا کہ "مشرق وسطیٰ ہماری عالمی حکمتِ عملی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ خطہ جدید ٹیکنالوجی اور مستقبل بین پالیسیوں کے باعث اریج کے لیے مثالی آغاز ثابت ہوگا۔”

کمپنی کو ستمبر میں یو اے ای جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی سے خصوصی فلائٹ پرمٹ مل چکا ہے، جبکہ چین میں اس کا ٹائپ سرٹیفیکیٹ 2024 میں منظور ہوا اور پروڈکشن سرٹیفیکیشن مئی 2025 میں حاصل کیا گیا۔

اریج کا گوانگژو میں واقع جدید کارخانہ سالانہ 10,000 فلائنگ کاریں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جہاں 1,200 سے زائد ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ ماہرین کام کر رہے ہیں۔ کمپنی اب تک 965 عالمی پیٹنٹس فائل کر چکی ہے اور فلائنگ کارز کی سات نسلیں تیار کر چکی ہے۔

اریج کی نئی اے868 فلائنگ کار 500 کلومیٹر تک پرواز کر سکتی ہے، جس کی رفتار 360 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد ہے اور اس میں 6 نشستیں موجود ہیں۔ یہ ماڈل کاروباری سفر اور ہنگامی سروسز دونوں کے لیے موزوں قرار دیا جا رہا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد فلائنگ کار کو روزمرہ استعمال کے لیے آسان، محفوظ اور ہر شخص کی پہنچ میں لانا ہے — تاکہ ہوائی سفر چند مخصوص افراد کا نہیں بلکہ عام شہریوں کا تجربہ بن سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button