متحدہ عرب امارات

کیا کمپنی مالی خسارے کی حالت میں استعفے کے بغیر بقایاجات دینے کی پابند ہوتی ہے

قانونی طور پر کمپنی کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ مالی خسارے کی حالت میں بقایاجات روک سکتی ہے یا پھر مرحلہ وار ادائیگی کا لائے عمل طے کر سکتی ہے

(خلیج اردو ) متحدہ عرب امارات میں کمپنی مالی خسارے کی حالت میں استعفے کے بغیر بقایاجات دینے کی پابند ہوتی ہے یا نہیں یہ سوال بہت ہی اہم ہے کیونکہ موجودہ حالات کے تناظر میں بیشتر کمپنیوں کو مالی خسارے کا سامنا ہے اور ورکرز چاہتے ہیں کہ یا تو انکو تنخواہ کے ساتھ بقایاجات وقت پر ادا کی جائے یا پھر استفعی دے کے رقم کی وصولی کو ممکن بنایا جائے ۔

متحدہ عرب امارات میں قانونی طور پر کمپنی کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ مالی خسارے کی حالت میں بقایاجات روک سکتی ہے یا پھر مرحلہ وار ادائیگی کا لائے عمل طے کر سکتی ہے۔

اگر ورکرز کے بقایاجات ہے کمپنی کے اوپر اور کمپنی ادا کرنے سے قاصر ہے تو ورکرز یا تو استفعی دے کر بقایاجات وصولی کے حقدار بن سکتے ہیں یا پھر کمپنی میں رہ کر رقم کی وصولی کے لئے مرحلہ وار طریقہ اپنا سکتے ہیں ۔

دبئی عدالت کی جانب سے فیصلہ سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ وفاقی لیبر ریلیشن ریگولیٹری لاء آرٹیکل 75 اور 76 کے مطابق ورکرز سال کے بعد چھٹی پر جانے کے حقدار ہیں اگر کام زیادہ ہو تو چھٹی کو آدھا کیا جاسکتا ہے ۔ چھٹی پر جانے سے پہلے رقم کی ادائیگی ممکن بنائی جانی چاہئے ۔ اگر پوری رقم ادا نہیں کی جاتی تو آدھی رقم پر آمادگی کا اظہار کیا جاسکتا ہے ۔ اگر ورکرز پوری رقم کی وصولی چاہتے ہیں تو استفعی دینا لازمی ہوگا ورنہ مالک کے پاس یہ اختیار ہے کہ مرحلہ وار رقم کی ادائیگی کے لئے لائے عمل طے کیا جائے ۔

Source: Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button