
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ہر چند ماہ بعد طرزِ زندگی کو بہتر بنانے والے نئے منصوبے متعارف کرائے جا رہے ہیں، جن کا مقصد روزمرہ زندگی کو آسان، تیز تر اور جدید بنانا ہے۔ دفتری سفر سے لے کر بین الریاستی آمد و رفت، شہری سہولیات، انفرااسٹرکچر اور عوامی مقامات تک، آئندہ برسوں میں متعدد منصوبے رہائشیوں کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری لائیں گے۔
ابوظہبی اور دبئی کے درمیان تیز رفتار ریل منصوبہ نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جس کے ذریعے دونوں امارات کا سفر تقریباً 30 منٹ میں ممکن ہوگا۔ یہ ٹرین 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور طویل مدت میں قومی معیشت میں بھاری مالی شراکت متوقع ہے، جبکہ شہریوں کے لیے تقریبات اور سرگرمیوں میں شرکت مزید آسان ہو جائے گی۔
بین الریاستی سفر کو مزید ہموار بنانے کے لیے قومی سطح پر سڑکوں کی ترقی کا بڑا پروگرام جاری ہے، جس پر 170 ارب درہم سے زائد لاگت آئے گی اور 2030 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ اس کا مقصد وفاقی شاہراہوں کی استعداد بڑھانا اور ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانا ہے۔
سماجی انفرااسٹرکچر کے میدان میں بھی بڑی پیش رفت ہو رہی ہے۔ ابوظہبی میں زاید نیشنل میوزیم اور دیگر ثقافتی منصوبوں کے بعد مزید 22 ارب درہم کے معاہدے طے پا چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں ترقیاتی منصوبے زیرِ تکمیل ہیں جو شہر کی شناخت اور سہولیات کو نئی جہت دیں گے۔
دبئی میں ٹریفک کے مسائل کم کرنے کے لیے سڑکوں اور پلوں کی تعمیرِ نو کے منصوبے جاری ہیں، جن میں الفے اسٹریٹ کی ترقی اور دبئی آئی لینڈز تک نئے پل کی تعمیر شامل ہے، تاکہ رش کم ہو اور ڈرائیونگ کا تجربہ بہتر بنایا جا سکے۔
بارشوں کے دوران نکاسیٔ آب کے مسائل سے نمٹنے کے لیے دبئی میں جدید اسٹروم واٹر ڈرینیج سسٹم تیار کیا جا رہا ہے، جس پر ایک ارب 439 ملین درہم لاگت آئے گی، تاکہ شہری بغیر کسی پریشانی کے بارش کے موسم سے لطف اندوز ہو سکیں۔
دبئی میٹرو کی بلیو لائن کے اضافے سے شہر کے مزید علاقوں کو پبلک ٹرانسپورٹ سے جوڑا جائے گا، جس میں 14 نئے اسٹیشن شامل ہوں گے اور شہریوں کو کم خرچ اور آسان سفر کی سہولت میسر آئے گی۔
توانائی کے شعبے میں بھی بڑے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جن میں نئی ٹرانسمیشن اسٹیشنز اور زیرِ زمین کیبلز کی توسیع شامل ہے، تاکہ بجلی کی فراہمی مزید مستحکم ہو۔
شارجہ میں خاندانوں کے لیے نئے عوامی مقامات، نہری منصوبے اور اندرونی سڑکوں کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جس سے رہائشی علاقوں میں سہولت اور ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی۔
عجمان میں قدرتی مقامات کو پیدل راستوں سے جوڑنے اور ورثے کو فروغ دینے کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جبکہ نئی سڑکوں کی تعمیر سے آمد و رفت میں آسانی پیدا ہو رہی ہے۔
راس الخیمہ میں سیاحت کے فروغ کے ساتھ ہوائی اڈے پر وی آئی پی ٹرمینل اور نجی طیاروں کے لیے ہینگرز کی تعمیر کا اعلان کیا گیا ہے، جو امارت کو لگژری سیاحت کا نیا مرکز بنائے گا۔
ام القیوین میں ایمریٹس روڈ کی توسیع اور نئے پلوں کی تعمیر سے سفر کا وقت نمایاں طور پر کم ہوگا، جبکہ فجیرہ میں اندرونی سڑکوں اور توانائی کے منصوبوں سے مقامی انفرااسٹرکچر مضبوط ہو رہا ہے۔
یہ تمام منصوبے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یو اے ای جدید سہولیات، بہتر نقل و حرکت اور اعلیٰ معیارِ زندگی کے ہدف کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔







