
خلیج اردو
دبئی: امریکی H-1B ویزہ کے اخراجات میں تیزی سے اضافے اور غیر یقینی امیگریشن پالیسیوں نے متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارتی خاندانوں کو امریکی یونیورسٹیوں میں بچوں کی تعلیم کے حوالے سے اپنی پُرانے منصوبے بدلنے پر مجبور کردیا ہے۔ اب یہ اخراجات فی ملازم ایک لاکھ ڈالر تک جا پہنچے ہیں، جس کے باعث والدین متبادل آپشنز تلاش کرنے لگے ہیں۔
یونیورسٹی ایڈمیشن کنسلٹنٹس کے مطابق والدین کی بڑی تعداد گھبراہٹ میں رابطہ کر رہی ہے۔ یونی ہاک گلوبل کے سی ای او ورن جین نے کہا کہ والدین امریکی تعلیم کے بجائے دیگر ممالک کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق اب طلبہ فن لینڈ، اٹلی، فرانس، نیدرلینڈز، آئرلینڈ اور سنگاپور کے ساتھ ساتھ کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور برطانیہ پر بھی غور کر رہے ہیں۔
کاؤنسلنگ پوائنٹ کی ڈائریکٹر ریما مینون ویلت نے بتایا کہ والدین اپنے بچوں کے لیے یو اے ای میں آغاز کر کے بعد میں بیرون ملک منتقلی پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین تعلیم کو صرف تعلیم نہیں بلکہ مستقبل میں مستقل رہائش کا ذریعہ بھی سمجھتے ہیں۔
ہیریٹ واٹ یونیورسٹی دبئی کے ایسوسی ایٹ ریجنل ڈائریکٹر گیری فرنانڈس نے کہا کہ یو اے ای خود ایک پرکشش متبادل بنتا جا رہا ہے کیونکہ یہاں سرمایہ کاری کے بدلے واضح اور قابل رسائی مستقبل کے مواقع دستیاب ہیں۔ ان کے مطابق امریکی اور برطانوی یونیورسٹیوں کی طرف انڈین طلبہ کے رجحان میں اب کمی اور یو اے ای سمیت دیگر ممالک میں اضافے کا رجحان نمایاں ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دبئی میں 2024-25 کے تعلیمی سال میں 42 ہزار سے زائد طلبہ 41 پرائیویٹ ہائر ایجوکیشن اداروں میں رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے 35 فیصد غیر ملکی طلبہ ہیں۔ صرف ہیریٹ واٹ یونیورسٹی دبئی میں ستمبر 2025 کے داخلوں میں 46 فیصد غیر ملکی ہیں جن میں سے 20 فیصد سے زائد بھارت سے تعلق رکھتے ہیں۔
بی آئی ٹی ایس پلانی دبئی کی ہیڈ آف ایڈمیشن ناہید افشاں نے کہا کہ یو اے ای میں عالمی معیار کی تعلیم، صنعت سے تعلقات اور بہتر ملازمت کے مواقع طلبہ کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ اسی طرح سمبیوسس دبئی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر انیتا پٹنکر کے مطابق ایک لاکھ ڈالر کے نئے H-1B اخراجات نے امریکی خواب کو توڑ دیا ہے، اور دبئی مستقبل پر مبنی تعلیم کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے جہاں گولڈن ویزہ، فری لانس اور جاب سیکر آپشنز طلبہ کے لیے زیادہ پُرکشش ہیں۔







