متحدہ عرب امارات

یو اے ای: فلائٹ ٹکٹس میں 300 فیصد اضافہ، ایک سفر پر دو ماہ کی تنخواہ خرچ

خلیج اردو
دبئی: گرمیوں کی چھٹیوں کے آغاز سے قبل ہی متحدہ عرب امارات میں فضائی سفر مہنگا ہو گیا ہے، اور ٹکٹوں کی قیمتوں میں 300 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس سے کئی رہائشیوں کو اپنے آبائی وطن جانے کے لیے دو ماہ کی تنخواہ صرف کرنا پڑ رہی ہے۔

ٹورازم ماہرین کے مطابق بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور فلپائن جیسے مشہور مقامات کے لیے واپسی کے ٹکٹوں کی قیمتیں آف سیزن کے مقابلے میں تین گنا تک بڑھ چکی ہیں۔ اس اضافے سے خاص طور پر وہ خاندان متاثر ہو رہے ہیں جو گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے وطن جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وائز فاکس ٹورازم کے سینئر منیجر سبیر تھیکپوراتھ ولاپیل نے بتایا کہ ’’ایک ملازم جو ماہانہ 5,000 سے 7,000 درہم کماتا ہے، اسے اپنی فیملی (چار افراد) کے واپسی کے ٹکٹوں پر 10,000 سے 14,000 درہم تک خرچ کرنا پڑ سکتا ہے، یعنی دو ماہ کی تنخواہ فلائٹ پر ہی خرچ ہو جائے گی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ جو افراد 15,000 درہم ماہانہ کما رہے ہیں، ان کے لیے بھی سفر پر پورا ماہانہ بجٹ خرچ ہو سکتا ہے۔ بھارتی شہروں کے لیے براہِ راست پروازوں کی قیمت 12,000 سے 14,000 درہم کے درمیان پہنچ چکی ہے۔

بجٹ ایئرلائنز جو عام طور پر کم آمدنی والے رہائشیوں کے لیے آسانی فراہم کرتی تھیں، اب ان کی نشستیں بھی فیملی کے لیے 10,000 درہم سے زائد میں فروخت ہو رہی ہیں۔

خلیج ٹائمز کے مطابق یو اے ای سے بھارتی شہروں کے لیے بجٹ ایئرلائنز کی واپسی کی موجودہ قیمتیں 2,100 سے 2,800 درہم کے درمیان ہیں۔ ایئر انڈیا ایکسپریس پر ممبئی کا ریٹرن ٹکٹ 2,250 درہم جبکہ انڈیگو پر کوچی کا ٹکٹ تقریباً 2,650 درہم میں دستیاب ہے۔

اس کے برعکس قاہرہ کے لیے ہوائی سفر نسبتاً سستا ہے۔ ایجپٹ ایئر کی دبئی سے قاہرہ کی واپسی پرواز تقریباً 1,200 درہم جبکہ ایئرعربیہ پر 1,300 درہم سے شروع ہو رہی ہے۔

ٹریول ایجنٹس نے بتایا کہ کچھ ایک طرفہ ٹکٹیں جو ایک ماہ پہلے 500 درہم سے کم میں دستیاب تھیں، وہی اب جون کے آغاز میں 1,500 درہم سے تجاوز کر گئی ہیں، اور اگست میں واپسی کے لیے قیمتیں 1,400 درہم سے بڑھ چکی ہیں۔

سبیر کا کہنا تھا کہ ’’تقریباً تمام مشرقی مقامات کے لیے قیمتیں دوگنا ہو چکی ہیں اور یہی رجحان یورپ اور فلپائن کے لیے بھی دیکھا جا رہا ہے۔‘‘

گلاڈاری انٹرنیشنل ٹریول سروسز کے مینیجر میر وسیم راجہ نے کہا کہ ’’ایئر فئیرز میں تیزی سے اضافہ 5 جون کے بعد شروع ہوا ہے، کیونکہ اس سال عید الاضحیٰ کی چھٹیاں اسکول کی گرمیوں کی چھٹیوں سے متصادم ہو رہی ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے مقبول پروازیں پہلے ہی مکمل طور پر بُک ہو چکی ہیں اور بجٹ ایئرلائنز کی سیٹیں بھی تیزی سے ختم ہو رہی ہیں، جس سے آخری لمحے میں ٹکٹ لینے والوں کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

سب سے زیادہ قیمتوں میں اضافہ کوچین، چنئی، بنگلور، دہلی، ڈھاکہ اور لاہور کے لیے دیکھنے میں آیا ہے۔ وہ ٹکٹ جو پہلے 700 سے 1,000 درہم کے درمیان ہوتے تھے، اب 2,500 درہم سے اوپر جا چکے ہیں۔

تاہم شمالی امریکہ کے لیے ایئر فئیرز نسبتاً مستحکم ہیں کیونکہ وہاں کئی روٹنگ آپشنز اور لی اوورز موجود ہیں۔ ٹریول ایجنٹس کے مطابق یورپی شہروں کے لیے بھی کرایوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button