
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے الزام عائد کیا ہے کہ اسے 26 دنوں کے دوران ایران کی جانب سے “دہشت گردانہ نوعیت کے حملوں” کا سامنا رہا، جن میں 2 ہزار سے زائد بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرونز استعمال کیے گئے۔ اماراتی حکام کے مطابق ان حملوں میں ایئرپورٹس، رہائشی علاقوں اور دیگر شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جو بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے جنیوا میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امارات کے نمائندے جمال المشراخ نے کہا کہ یہ کارروائیاں محض تنازع نہیں بلکہ “منظم اور غیر ذمہ دارانہ رویہ” ہیں جو علاقائی اور عالمی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔
اماراتی نمائندے نے کہا کہ حملوں میں دو فوجی اہلکار اور چھ شہری جاں بحق جبکہ 29 ممالک سے تعلق رکھنے والے 161 افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے اقدامات اس کے “پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات” کے دعووں کے برعکس ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ان حملوں کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی، تجارتی راستوں اور خاص طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔
اماراتی مؤقف کے مطابق عالمی برادری نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اور سلامتی کونسل سمیت مختلف بین الاقوامی اداروں نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔
امارات نے واضح کیا کہ وہ ہمسائیگی، برداشت اور بقائے باہمی کے اصولوں پر قائم ہے، تاہم اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔







