متحدہ عرب امارات

ایک فلیٹ میں 35 افراد‘: دبئی کے رہائشی غیرقانونی روم شیئرنگ سے پریشان، شور و ہجوم معمول بن گیا

خلیج اردو
دبئی – 3 جولائی 2025ء
دبئی کے علاقے دیرۃ میں واقع ایک عمارت کے مکین گزشتہ چند برسوں سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں ایک فلیٹ میں 35 سے زائد افراد کی غیرقانونی رہائش نے سکون غارت کر دیا ہے۔ 25 سال سے اس عمارت میں رہنے والے عظیم اور ان کا خاندان اب بھی اس مقام سے جذباتی طور پر جڑے ہوئے ہیں، لیکن روم شیئرنگ اور پارٹیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

عظیم نے بتایا، ’’کووڈ کے بعد یہاں کئی فلیٹس کو کیوبیکلز میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ کچھ فلیٹس میں 30 سے زائد افراد رہتے ہیں۔ ہم نے متعدد بار بلڈنگ مینجمنٹ سے شکایات کی ہیں، لیکن بہتری نہیں آئی۔‘‘

عمارت میں رش کو کنٹرول کرنے کے لیے ہر فلیٹ کو صرف تین ایکسیس کارڈ جاری کیے گئے ہیں، جس کے باعث مہمانوں کو مرکزی دروازے پر انتظار کرنا پڑتا ہے۔ عظیم کے مطابق، ’’یہ صورتحال شرمندگی کا باعث بنتی ہے۔‘‘

سب سے بڑا مسئلہ لفٹ کا ہے۔ رہائشیوں کے مطابق، ’’لفٹ کے لیے 10 سے 15 منٹ انتظار کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہر منزل پر لفٹ رکتی ہے، اور عمارت اتنی آبادی کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کی گئی تھی۔‘‘

رہائشیوں کا کہنا ہے کہ جذباتی وابستگی اور علاقے کی سہولت کی وجہ سے وہ یہاں سے منتقل نہیں ہو پاتے، لیکن شور، صفائی کی ابتر صورتحال، اور سیکیورٹی کے مسائل روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔

دیرۃ کی ایک اور عمارت میں رہنے والے شہریوں نے بتایا کہ ہجوم کی وجہ سے روز جھگڑے ہوتے ہیں، سیڑھیوں اور راہداریوں میں کچرا پھینکا جاتا ہے، اور کچھ افراد نشہ آور اشیاء استعمال کرتے ہیں۔

ایک خاتون ہبہ (فرضی نام) نے کہا، ’’رات کو اونچی آواز میں موسیقی، شور شرابہ اور بچوں کی نیند خراب ہونا روز کا معمول بن چکا ہے۔ بارہا تنبیہ کرنے کے باوجود فرق نہیں پڑا۔‘‘

ان کے شوہر نے بتایا، ’’عمارت کا ماحول اب کسی ہوسٹل جیسا ہو گیا ہے۔ مہمانوں کو لانے میں بھی جھجک ہوتی ہے کیونکہ لوگ ہر وقت راہداریوں میں کھڑے رہتے ہیں۔‘‘

کئی رہائشیوں نے الزام لگایا کہ کچھ مالکِ مکان خود ہی اپنے فلیٹس ایجنٹس یا کرایہ داروں کو دیتے ہیں جو انہیں پارٹیشن کر کے بیڈ اسپیس میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

دیرۃ کے ایک رہائشی نوین نے بتایا، ’’یہ سب کچھ مالکان کی مرضی سے ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کا فلیٹ 8 سے 10 کیوبیکل میں تبدیل ہو جائے گا اور وہاں 15 سے 20 افراد رہیں گے، لیکن زیادہ کرایہ کی خاطر وہ یہ سب برداشت کر لیتے ہیں۔‘‘

رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکام اس غیرقانونی شیئرنگ اور بیڈ اسپیس کلچر کی کڑی نگرانی کریں تاکہ رہائشی عمارتوں کا وقار اور سکون بحال ہو سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button