
خلیج اردو
دبئی: یو اے ای میں کنسرٹس اور میوزیکل ایونٹس کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ جعلی ٹکٹنگ اسکینڈلز میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جہاں فراڈیے مداحوں کو 50 فیصد رعایت کے نام پر کلون ویب سائٹس، جعلی پیمنٹ گیٹ ویز اور او ٹی پی فراڈ کے ذریعے جال میں پھنسا رہے ہیں۔
پلاٹینم لسٹ کے سی ای او کوسمِن ایوان نے بتایا کہ سب سے بڑا اشارہ ادائیگی کا طریقہ ہے۔ ان کے مطابق اکثر فراڈیے ایسے گیٹ ویز استعمال کرتے ہیں جو صارفین کو والٹ ٹرانسفر پر مجبور کرتے ہیں یا او ٹی پی کے ذریعے غلط رقوم منظور کرواتے ہیں۔ خریدار سمجھتے ہیں کہ وہ چھوٹی رقم کی تصدیق کر رہے ہیں، لیکن درحقیقت او ٹی پی بڑی رقم کی منظوری دیتا ہے۔ چونکہ صارف او ٹی پی خود داخل کرتا ہے اس لیے بینک اکثر اسے جائز لین دین سمجھ لیتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فراڈیے عام طور پر بڑے ایونٹس یا پری سیل کے دنوں سے پہلے مشابہ ڈومینز رجسٹر کر لیتے ہیں، جیسے اضافی الفاظ والے یو آر ایل، غیر معمولی ڈومینز جیسے “.site” یا “.vip”، اور جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس جو اشتہارات یا ڈائریکٹ میسجز کے ذریعے لنکس پھیلاتے ہیں۔ ان کے مطابق "اگر کوئی ڈیل 50 سے 70 فیصد رعایت کے ساتھ نظر آئے، تو وہ تقریباً ہمیشہ جعلی ہوتی ہے۔”
پلاٹینم لسٹ نے ’سیف ٹکٹس‘ متعارف کرائے ہیں جن میں ڈائنامک کیو آر کوڈز، اسکرین شاٹ بلاکنگ، اور تصدیق شدہ ری سیل چینل شامل ہیں۔ تاہم، ایوان کا کہنا تھا کہ چونکہ فراڈ سائٹس اکثر باضابطہ نظام سے باہر کام کرتی ہیں اس لیے کراس سیکٹر تعاون ناگزیر ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فراڈ صرف یو اے ای تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر پھیل رہا ہے، بڑے اسپورٹس ایونٹس، فیسٹیولز اور کنسرٹس کے دوران بھی یہی ماڈل استعمال کیا جا رہا ہے۔ دبئی کے ماہر علی مصطفیٰ نے کہا کہ یہ فراڈیے لہر در لہر کام کرتے ہیں اور مختلف ممالک میں ایک جیسے ڈومین ریجسٹرار اور ہوسٹنگ سروسز کا سہارا لیتے ہیں جس سے انہیں فوری طور پر بند کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ڈیجیٹل رسک ریسرچر ڈاکٹر لینا فشر نے کہا کہ یہ معاملہ ٹیکنالوجی سے زیادہ نفسیات کا ہے۔ ان کے مطابق، "فراڈیے شائقین کے جوش اور کچھ کھو دینے کے خوف (FOMO) پر کھیلتے ہیں۔ جب مداحوں کو لگتا ہے کہ شو چند منٹوں میں سیل آؤٹ ہو جائے گا، تو وہ انتباہات کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔”
انہوں نے تجویز دی کہ ایونٹ آرگنائزرز کو ایک ہی واضح ’آفیشل ٹکٹس‘ پیج بنانا چاہیے اور اسے بار بار سوشل میڈیا پر شیئر کرنا چاہیے تاکہ جعلی ویب سائٹس کا اثر کم ہو سکے۔







