
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں 6G ٹیکنالوجی پر پیش رفت جاری ہے، تاہم عام صارفین کو یہ سہولت 2030 سے پہلے دستیاب ہونے کا امکان نہیں۔ e& کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر حاتم دویدار کا کہنا ہے کہ اگرچہ 2025 میں 6G کا کامیاب پائلٹ ٹیسٹ کیا جا چکا ہے، مگر اس کی کمرشل سطح پر آمد میں وقت لگے گا۔
حاتم دویدار نے ورلڈ گورنمنٹ سمٹ 2026 کے آخری روز گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “اگلے دو برس میں 6G کے عالمی معیارات تقریباً حتمی شکل اختیار کرلیں گے جبکہ 2028 عالمی ہم آہنگی کا اہم سال ہوگا، مگر 2030 سے پہلے آپ کے ہاتھ میں 6G فون نہیں ہوگا۔”
ان کے مطابق 6G نیٹ ورک انتہائی تیز رفتار ردعمل، زیادہ بینڈوڈتھ، مسلسل کنیکٹیویٹی اور جدید سیکیورٹی فیچرز فراہم کرے گا، جس میں سینسنگ اور لوکل کمپیوٹنگ بھی شامل ہوں گی۔
ڈیجیٹل دنیا میں مشرق اور مغرب کے درمیان توازن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “ہم ایک ایسے زون میں کھڑے ہیں جہاں امریکی شراکت داروں کے ساتھ بھی کام کر رہے ہیں اور چینی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم پر بھی نظر ہے، عالمی معیارات سب کے لیے ضروری ہیں۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ مختلف معیارات لاگت میں اضافے اور ڈیجیٹل شمولیت میں رکاوٹ بن سکتے ہیں، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے۔







