متحدہ عرب اماراتٹپس

جانیے کیا آپ ابوظہبی کا 5 اور 10 سالہ ویزا حاصل کرنے کے اہل ہیں یا نہیں؟

 

خلیج اردو آن لائن:

ابوظہبی کی جانب سے حال ہی میں ایک ایسا پروگرام لانچ کیا گیا ہےجس تحت پیشہ ور افراد، طلباء، اور سرمایہ کاروں کو 5 اور 10 سال کے ویزے دیے جائیں گے۔

اس پروگرام کا نام تھرائیو ان ابوظہبی رکھا گیا ہے، جس کے تحت کچھ افراد کو یو اے ای کی شہریت بھی دی جائے گی لیکن اس شہریت کے حوالے سے اہلیت سے متعلق اعلان بعد میں کیا جائےگا۔

اس اقدام سے متعلق بنائی گئی ویب سائٹ کے مطابق گولڈن ویزے کی ہر کیٹگری کی ایک اپنی کسوٹی ہے۔

تفصیلات درج ذیل ہیں:

سرمایہ کار:

سرمایہ کاروں کی کیٹگری کی بھی دو مزید شاخیں ہیں: سرمایہ کار اور ریئل اسٹیٹ سرمایہ کار۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں سرمایہ کاروں کے لیے 10 سالہ ویزے کی، سرمایہ کار ابوظہبی کے 10 سالہ ویزے کے اہل ہوں گے اگر درج ذیل معیار پر پورا اترتے ہیں تو:

  • ابوظہبی میں کسی بینک یا انویسٹمنٹ فنڈ میں کم از کم 2 ملین درہم کا کیپیٹل ڈیپازٹ ہونا چاہیے،
  • دو ملین یا اس زیادہ کی کمپنی ابوظہبی میں قائم کی ہو، یا کسی ایسی ہی نئی یا پرانی کمپنی کا پارٹنر ہونا ضروری ہوگا جس میں کم از کم 2 ملین درہم کی مالی معاؤنت کی ہو۔
  • یہ ایسی کمپنی کا مالک ہو جو ہر سال باقاعدگی سے 2 لاکھ 50 درہم یا اس سے زائد کا ٹیکس وفاقی حکومت کو ادا کرتی ہو۔
  • یا کسی ایسی کمپنی کا پارٹنر ہو جو 2 لاکھ 50 ہزار درہم یا زائد کا وفاقی ٹیکس ادا کرتی ہو۔
  • ویزا جاری ہونے کے بعد کم از کم دو سال تک سرمایہ کاری برقرار رکھنی ہوگی۔

ریئل اسٹٰیٹ انویسٹروں کے لیے 5 سالہ ویزا:

ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کار اگر درج ذیل معیار پر پورا اترتے ہیں تو وہ ابوظہبی کے 5 سالہ ویزے کے اہل ہوں گے:

  • کسی ایسی پراپرٹی میں سرمایہ کاری کی گئی ہو جس کی مجموعی مالیت 2 ملین درہم سے کم نہ ہو۔
  • اور اگر پراپرٹی بینک سے لیز کروائی گئی ہے تو اس کی بنیادی رقم جو کیش میں ادا کی گئی ہو وہ 2 ملین درہم سے کم نہیں ہونی چاہیے۔
  • ویزا جاری ہونے کے بعد کم از کم دو سال تک سرمایہ کاری برقرار رکھنی ہوگی۔

کار جو (entrepreneur ):

کاروبار کو شروع کرنے والے یا اسے منتظم کرنے والے کو entrepreneur کہا جاتا ہے، لہذا کار جو اگر درج ذیل معیار پر پورا اترتا ہے تو وہ ابوظہبی کا 5 سالہ ویزا حاصل کرنے کا اہل ہوگا:

  • کم از کم 5 لاکھ درہم کیپیٹل مشتمل موجودہ پراجیکٹ ہونا چاہیے۔
  • اور ابوظہبی کے کسی اچھے بزنس انکیوبیٹر کی طرف سے منظوری حاصل کی گئی ہو۔

طلباء:

ہائی اسکول  طلبا اگر درج ذیل معیار پر پورا اترتے ہیں تو ابوظہبی انہیں 5 سالہ ویزا آفر کرتا ہے:

  • ابوظہبی کے کسی ہائی اسکول سے سے اعلیٰ نمبر حاصل کیے ہوں۔
  • اور وزارت تعلیم کی طرف جاری کیا تجویزی لیٹر بھی ہونا چاہیے۔

یونیورسٹی سے اعلی تعلیم یافتہ طلباء:

ابوظہبی یونیورسٹی سے اعلی تعلیم یافتہ طلباء اگر درج ذیل معیار پر پورا اترتے ہیں تو ابوظہبی انہیں 10 سالہ ویزا فراہم کرے گا:

  • ابوظہبی کی مایہ ناز یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی ہو۔
  • اور تعلیم کے اختتام پر کل سی جی پی اے کم از کم 3 اشاریہ 8 ہونی چاہیے۔

اسپیشل ٹیلنٹ:

ابوظہبی درج ذیل 9 کیٹگریوں کو اسپیشل ٹیلنٹ کا نام دیتا ہے اور ان کے حامل افراد کو ابوظہبی کا 10 سالہ ویزا فراہم کیا جائے گا:

ڈاکٹر:

  • ڈاکٹر 10 سالہ ویزا اس صورت میں حاصل کر سکتا ہے اگر اس کے پاس بطور کنسلٹنٹ یا فزیشن پریکٹس کے لیے ابوظہبی ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ کی جانب سے جاری کردہ لائسنس موجود ہو۔
  • بطور کنسلٹنٹ لائسنس کا حامل ہو اور ہیلتھ کیئر کی فراہمی میں مؤثر کردار ادا کیا ہو، یا پہلے درجے میں رینک کی جانے والی تعلیم حاصل کی ہو۔
  • 10 سال سے زیادہ عرصے سے بطور کنسلٹنٹ یا اسپیشلسٹ فزیشن کے پریکٹس کر رہا ہو۔
  • صحت سے متعلق خاص فیلڈ میں خدمات سر انجام دیتا ہو، اور فیلڈ میں پریکٹس کرنے والے افراد کی تعداد لائسنس شدہ فزیشنز کی کل تعداد کے 5 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔

اس کے علاوہ ڈاکٹروں کو درج ذیل معیارات میں سے کسی ایک پورا کرنا ہوگا اور اس حوالے سے ثبوت فراہم کرنا ہوگا:

  • متعلقہ سرکاری ادارے کی جانب سے بطور نمایاں پروفیشنل کے سرٹیفکیٹ یا ایوارڈ کا حامل ہو۔
  • کسی مؤثر کلینکل ریسرچ ٹیم کا حصہ ہے یا نہیں۔
  • متعلقہ شعبے میں ریسرچ کسی بھی بین الاقوامی جرنل میں شائع کروائی ہے یا نہیں۔
  • انٹرنیشنل میڈیکل ایجوکیشن پروگرام یا ابوظہبی ڈیپارٹمنٹ ہیلتھ کمیٹی کا فعال رکن ہو۔

سائنس دان:

ابوظہبی کا 10 سالہ ویزا حاصل کرنے کے سائنس دان کے پاس ایمریٹس سائنٹسٹ کونسل کا ریکمنڈیشن (تجویزی) لیٹر ہونا چاہیے، یا سائنس کی فیلڈ میں کوئی نمایاں کام کرنے پر محمد بن راشد میڈیل حاصل کر رکھا ہو۔

آرٹ اور کلچر:

آرٹ اور کلچر یعنی فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے افراد اگر ابوظہبی کا 10 سالہ ویزا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انکے پاس ابوظہبی کی کلچرل ایجنسیوں میں سے کسی ایک ایجنسی کا ریکمنڈٰیشن لیٹر ہونا چاہیے۔

جدت و اختراع پیدا کرنے والے یا تخلیق کار (Innovators ):

ایسے تخلیق کاروں کے پاس وزارت اقتصادیات کا ریکمنڈیشن لیٹر ہونا چاہیےاور اپنا ایک پیٹںٹ رجسٹر ہونا چاہیے جس سے ابوظہبی کی معیشت کو فائدہ پہنچے۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹرز:

  • کم از کم بیچلرز یا اس کے مساؤی ڈگری موجود ہونی چاہے۔
  • کم از کم 5 سالہ تجربہ ہونا چاہیے۔
  • کم از کم 50 ہزار درہم ماہانہ تنخواہ ہو۔
  • اور ابوظہبی میں ملازمت کا کار آمد معاہدہ ہو۔

 

ماہر تعلیم:

ان ماہر تعلیم کو 10 سالہ ویزا دیا جائے گا جو کسی نایاب فیلڈ میں ماہر ہوں گے یا وہ شعبہ ملک کی ترجیح ہوگا۔

کھیلاڑی یا اسپورٹس سےمتعلق افراد کے لیے ویزا:

  • ابوظہبی اسپورٹس کونسل یا جنرل اسپورٹس اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ ریکمنڈیشن لیٹر ہونا چاہیے۔
  • اسپورٹس کا شاندار ٹیلنٹ ہو
  • انٹرنیشنل سپورٹس فیڈریشن، کمیٹیز، یا آگنائزیشن میں لیڈرشپ کی پوزیشن کا حامل ہو۔
  • یا اسپورٹس میڈٰیسن میں اسپشلائزڈ ہو۔

پی ایچ ڈی ڈاکٹرز:

  • ابوظہبی کے ترجیحی شعبے میں پی ایچ ڈی کی ڈگرکا حامل ہو۔

انجینئرز:

ابوظہبی کا 10 سالہ ویزا حاصل کرنے کے خواہمشند انجینئرز کے پاس وزارت تعلیم کی تسلیم شدہ درج ذیل شعبوں میں بچلرز یا ماسٹرز کی ڈگر ہونی چاہیے اور وہ اسی فیلڈ میں ابوظہبی ہی میں نوکری بھی کرتے ہوں:

  • وبائی امراض اور ویرالوجی
  • مصنوعی ذہانت
  • بگ ڈیٹا
  • کمپیوٹر انجینرنگ
  • الیکٹریکل انجینئرنگ
  • سافٹ انجینئرنگ
  • الیکٹرونکس انجینئرنگ
  • جنیکٹکس انجینئرنگ
  • بائیو ٹیکنالوجی انجینئرنگ

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button