متحدہ عرب امارات

ابوظبی لیبر کورٹ: ملازم کا 20,786 درہم واجبات کا دعویٰ مسترد، دیگر حقوق کی منظوری

خلیج اردو
ابوظبی: ابوظبی لیبر کورٹ (فرسٹ انسٹینس) نے ایک ملازم کی جانب سے 20,786 درہم کی غیر ادا شدہ تنخواہوں کا دعویٰ تفصیلات کے فقدان کے باعث مسترد کر دیا، تاہم کمپنی کی جانب سے ملازمت ختم کرنے کے بعد دیگر واجبات دینے کا حکم جاری کیا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملازم کا مؤقف تھا کہ وہ 15 سال سے زائد عرصہ کمپنی میں کام کرتا رہا اور اسے متعدد تنخواہیں نہیں دی گئیں۔ اس نے مجموعی طور پر 50,846 درہم کا دعویٰ کیا جس میں گریجویٹی، سالانہ چھٹیوں کے واجبات، ایک ماہ کا نوٹس پیریڈ، فضائی ٹکٹ اور واجب الادا تنخواہیں شامل تھیں۔

کمپنی نے اپنے وکیل کے ذریعے دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے تحریری دلائل اور دستاویزات جمع کرائیں۔ عدالت نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد یہ قرار دیا کہ ملازم کا معاہدہ 6 جنوری 2010 سے شروع ہوا تھا۔

عدالتی فیصلہ
28 اگست کو جاری فیصلے میں عدالت نے ملازم کو درج ذیل ادائیگیوں کا حق دار قرار دیا:

  • 13,610 درہم بطور گریجویٹی

  • 2,000 درہم سالانہ چھٹیوں کا معاوضہ

  • 2,400 درہم بطور نوٹس پیریڈ تنخواہ (کیونکہ اسے بغیر اطلاع فارغ کیا گیا)

  • واپسی کے فضائی ٹکٹ کا خرچ

تاہم 20,786 درہم کے غیر ادا شدہ تنخواہوں کا دعویٰ مسترد کر دیا گیا، کیونکہ ملازم یہ ثابت نہ کر سکا کہ کس ماہ کی تنخواہ یا کتنی رقم بقایا ہے۔

یوں عدالت نے کمپنی کو کل 17,010 درہم اور واپسی کا ٹکٹ ادا کرنے کا حکم دیا، ساتھ ہی کچھ عدالتی اخراجات بھی کمپنی کو برداشت کرنے کا کہا۔

یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ دعوے کی کامیابی کے لیے ملازمین کو تنخواہوں اور واجبات کا مکمل ریکارڈ پیش کرنا ضروری ہے، جبکہ کمپنیوں پر بھی لازم ہے کہ معاہدے اور قانون کے مطابق واجبات ادا کریں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button