
خلیج اردو
ابوظبہی:ابوظہبی کے اسکول خصوصی ضروریات یا سیکھنے کی مشکلات والے طلباء کو محض اپنی محدود سہولتوں کی بنا پر مسترد نہیں کر سکتے۔
ابوظہبی ڈپارٹمنٹ آف ایجوکیشن اینڈ نالج کی نئی شمولیتی پالیسی کے تحت اسکولوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کسی طالب علم کی مدد کیوں نہیں کر سکتے۔ اس فیصلے کو برقرار رکھنے یا منسوخ کرنے کا حتمی اختیار ادیک کے پاس ہوگا۔
ادیک کی ایجوکیشن پالیسی آفس ڈائریکٹر، سلوی والڈ نے کہا: "اب اسکولوں کو ہر طالب علم کو قبول کرنا ہوگا، اور اگر وہ کسی طالب علم کو جگہ نہیں دے سکتے، تو انہیں ادیک کو اطلاع دینا ہوگی۔ اسے ‘عدم مطابقت نوٹیفکیشن’ کہا جاتا ہے۔”
اسکول کو اپنی محدود صلاحیتوں کے بارے میں تفصیلی تحریری ثبوت فراہم کرنا ہوگا، جس کا ادیک کی شمولیتی ٹیم جائزہ لے گی۔ اگر ٹیم کو لگے کہ اسکول دراصل طالب علم کی مدد کر سکتا ہے، تو وہ انکار کے فیصلے کو منسوخ کر کے اسکول کو طالب علم کو داخلہ دینے کا حکم دے گی۔
ادیک یہ بھی بتائے گا کہ اسکول کس طرح طالب علم کو سہولت فراہم کر سکتا ہے۔
والدین جو اپنے بچوں کے لیے اسکول میں داخلہ حاصل کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں، وہ ادیک کے کسٹمر ہیپی نیس سینٹر سے مدد لے سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، ادیک ان طلباء کے لیے خصوصی اسکولوں میں داخلے کے راستے بھی فراہم کرتا ہے جو مین اسٹریم ماحول میں بہتر کارکردگی نہ دکھا سکیں۔
اگر کوئی اسکول شمولیتی پالیسی پر عمل نہ کرے تو اسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پہلے مرحلے میں اسکول کو موقع دیا جائے گا کہ وہ پالیسی کے مطابق عمل کرے، لیکن اگر وہ انکار جاری رکھے تو اسے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور معاملہ سنگین نتائج تک پہنچ سکتا ہے۔
نئی پالیسی کے مطابق شمولیت کا دائرہ کار نہ صرف خصوصی طلباء تک محدود ہے بلکہ ہر اُس طالب علم پر محیط ہے جس کو اضافی تعلیمی مدد کی ضرورت ہو، چاہے اُس کی تشخیص ہوئی ہو یا نہیں۔ "جہاں بھی اساتذہ کو ضرورت محسوس ہو، انہیں شمولیتی طریقے استعمال کرنے چاہئیں تاکہ ہر بچے کو اس کے سیکھنے کے انداز کے مطابق مدد فراہم کی جا سکے۔”
ان کوششوں کی حمایت کے لیے، ادیک نے شمولیتی اساتذہ (Inclusion Teachers) متعارف کروائے ہیں جو مکمل طور پر اہل اساتذہ ہوں گے، محض معاون عملہ نہیں۔ یہ اساتذہ کلاس روم کی قیادت کریں گے یا اساتذہ کے ساتھ مل کر ان طلباء کی مدد کریں گے جنہیں اضافی مدد کی ضرورت ہو۔
پالیسی کے تحت بعض پرانی اصطلاحات بھی تبدیل کی گئی ہیں؛ مثلاً شیڈو ٹیچرز کو اب شمولیتی معاونین (Inclusion Assistants) کہا جائے گا۔ نئے ضابطے کے مطابق، معاونین کو صرف اسی صورت میں کلاس روم میں مدد فراہم کرنے کی اجازت ہوگی جب یہ ثابت ہو کہ طالب علم کو کم از کم 50 فیصد اسکول کے دن میں ان کی ضرورت ہے۔
مزید برآں، اب اسکولوں کو شمولیتی عمل میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا اور خصوصی شمولیتی ٹیمیں تشکیل دینا ہوں گی تاکہ اسکول کے ہر پہلو میں شمولیت کو فروغ دیا جا سکے۔
اسکول اب ادیک کے ذریعے مخصوص تعلیمی آلات کی درخواست بھی کر سکتے ہیں اگر ان کے طلباء کو مخصوص سیکھنے کے اوزار کی ضرورت ہو۔ مثال کے طور پر، بصری معذوری والے طالب علم کے لیے بریل مشین حاصل کی جا سکتی ہے۔
یہ شمولیتی پالیسی ان 39 نئی پالیسیوں میں سے ایک ہے جو ادیک نے گزشتہ سال ستمبر میں متعارف کرائی تھیں۔ اسکولوں کے پاس ستمبر 2026 تک ان نئے قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کا وقت ہے۔







