
(خلیج اردو ) ابوظہبی میں ڈاکٹروں کی غفلت سے خاتون جانبحق عدالت نے 60 ہزار درہم جرمانہ لگایا دیا ۔عدالت نے پہلے ڈاکٹروں کو بری کر دیا تھا بعد میں وکیل استغاثہ کی اپیل پر فیصلہ تبدیل کردیا۔
تفصیلات کے مطابق سپریم وفاقی عدالت نے ابوظہبی اسپتال میں جاں بحق ہونے والی خاتون کیس کے بارے فیصلہ سناتے ہوئے دونوں ڈاکٹروں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور فیصلہ سنایا ہے کہ ڈاکٹروں نے خاتون مریض کو بروقت علاج فراہم کرنے میں تاخیر سے کام لیا ہے اور ایک دن گزرنے کے بعد خاتون کا علاج شروع کیا جس سے وہ انتقال کرگئی۔
ابوظہبی اسپتال میں ایک خاتون مریضہ لائی گئی جنکو سینے میں درد کی شکایت تھی اور خون کی کمی کا سامنا تھا ۔ ڈاکٹروں نے کیس کی نوعیت کو نظر انداز کرتے ہوئے علاج شروع کرنے میں تاخیر کی جس کے سبب وہ خاتون دوسرے دن انتقال کرگئی ۔
خاتون کے ورثا نے عدالت سے رجوع کیا تو کیس کی شنوائی شروع ہوئی ۔ عدالت نے پہلے دونوں ڈاکٹروں کو بری کردیا تھا جس میں ایک ڈاکٹر پیشنٹ اٹنڈینٹ تھا جبکہ دوسرا ماہر امراض ڈاکٹر تھا ۔
عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ ڈاکٹروں نے مریض کا علاج شروع کرنے میں تاخیر سے کام لیا ہے جس
پھر ان پر فرد جرم عائد کردیا گیا ۔
ہر ایک ڈاکٹر پر 30 ہزار درہم جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے ڈیوٹی میں غفلت سے کام لیا ۔
عدالت نے واضخ کیا کہ جب مریضہ اسپتال میں داخل ہوئی تو ایک ڈاکٹر کا فرض تھا کہ چیک اپ کے بعد دوسرے ڈاکٹر کو کیس کی نوعیت کے بارے آگاہی دی جاتی جبکہ دوسرے ڈاکٹر کی ڈیوٹی تھی کہ بروقت علاج شروع کیا جاتا جس سے خاتون مریضہ کی جان بچائی جاسکتی تھی ۔
Source:Gulf Today







