
خلیج اردو
بھارت نے ڈاکٹر ایمادی وشنو وردھن ریڈی کو دبئی میں نیا قونصل جنرل مقرر کر دیا ہے۔ 2008 بیچ کے انڈین فارن سروس افسر ڈاکٹر ریڈی دبئی اور شمالی امارات میں بھارتی قونصل خانے کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور ستیش کمار سیوان کی جگہ لیں گے۔
ڈاکٹر وشنو وردھن ریڈی کا تعلق بھارتی ریاست تلنگانہ کے ضلع ورنگل سے ہے۔ سفارت کاری میں آنے سے پہلے انہوں نے نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) سے طب کی تعلیم حاصل کی اور ڈاکٹر بننے کی تربیت حاصل کی۔
بعد ازاں انہوں نے میڈیکل کے شعبے کے بجائے سفارت کاری کو اپنا کیریئر بنایا اور 2008ء میں انڈین فارن سروس میں شامل ہو گئے۔
ڈاکٹر ریڈی نے بیرون ملک بھارتی سفارتی مشنز میں میڈرڈ اور جنیوا میں خدمات انجام دیں جہاں انہوں نے دو طرفہ اور کثیر ملکی تعلقات کے معاملات دیکھے۔ انہیں مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ سفارتی امور نمٹانے کا بھی تجربہ حاصل ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ہیڈکوارٹر نئی دہلی میں بھی وہ یورپ ویسٹ، لاطینی امریکا و کیریبین اور ایکسٹرنل پبلسٹی ڈویژنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
ڈاکٹر ریڈی کو فروری 2017ء میں حیدرآباد کا ریجنل پاسپورٹ آفیسر مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے 2020ء تک ریجنل پاسپورٹ آفس اور وزارت خارجہ کے برانچ سیکریٹریٹ کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔
پاسپورٹ اور قونصلر امور میں ان کا یہ تجربہ دبئی میں ان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں بھارتی قونصل خانے کو پاسپورٹس، دستاویزات، ہنگامی معاونت اور بھارتی کمیونٹی کی فلاح و بہبود سے متعلق بڑی تعداد میں معاملات دیکھنا ہوتے ہیں۔
دبئی آنے سے قبل ڈاکٹر ریڈی تلنگانہ حکومت کے ساتھ ڈیپوٹیشن پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ محکمہ صنعت و تجارت میں اسپیشل سیکریٹری برائے سرمایہ کاری کے فروغ اور بیرونی روابط کے عہدے پر فائز رہے۔
انہوں نے عالمی کمپنیوں کے ساتھ روابط، غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول اور تلنگانہ میں کاروباری مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے بھی کام کیا۔ وہ ریاستی صنعتی انفراسٹرکچر کارپوریشن کے وائس چیئرمین اور مینیجنگ ڈائریکٹر بھی رہے جبکہ تجارت کے فروغ اور بیرون ملک روزگار سے متعلق اضافی ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔
دبئی میں ان کی یہ مہارت خاص طور پر اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری دو طرفہ تعلقات کا اہم حصہ ہیں۔
دبئی میں ذمہ داریاں سنبھالنے سے کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر ریڈی نے 24 جولائی کو ممبئی میں بھارت ڈائمنڈ بورصہ کا دورہ بھی کیا۔ وہاں انہوں نے کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کی اور ہیرے کی تجارت کے پورے نظام کا جائزہ لیا، جس میں خام ہیروں کی درآمد سے لے کر تراشے اور پالش کیے گئے ہیروں کی برآمد تک کا عمل شامل ہے۔
دبئی میں ڈاکٹر ریڈی کی تعیناتی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، ہیرے اور زیورات کی صنعت سمیت مختلف شعبوں میں روابط مسلسل اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔







