
خلیج اردو
ایئربس نے اپنی A320 فیملی کے تقریباً 6,000 طیاروں کے لیے فوری مرمت کا حکم جاری کر دیا ہے جس کے بعد دنیا بھر کی ایئرلائنز نے پروازوں میں تاخیر اور ممکنہ منسوخی کے انتباہات جاری کیے ہیں۔ یہ قدم ایک ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب امریکہ میں تھینکس گیونگ تعطیلات کے بعد سفر کا دباؤ عروج پر ہے، اور متعدد ایئرلائنز اپنے شیڈیول میں تبدیلیاں کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ حفاظتی اقدام اکتوبر میں پیش آنے والے ایک جیٹ بلو A320 واقعے کے بعد سامنے آیا جس میں طیارہ میکسیکو کے کنکون سے نیو جرسی کے نیوارک جاتے ہوئے اچانک نیچے آگیا اور اسے فلوریڈا کے ٹامپا میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ تحقیقات کے مطابق شدید شمسی شعاعیں الیویٹر ایلیرون کمپیوٹر کے ڈیٹا کو متاثر کر سکتی ہیں جس سے فلائٹ کنٹرول سسٹم میں خرابی کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ایئربس اور یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے فوری سافٹ ویئر اور کچھ کیسز میں ہارڈویئر اپ ڈیٹس لازمی قرار دیں۔
دنیا بھر کی ایئرلائنز اس ڈائریکٹیو سے متاثر ہو رہی ہیں۔ امریکن ائیرلائنز کے 340 طیارے، ڈیلٹا کے چند A321 نیو، ایئر فرانس کے 35 طیارے، آویانکا کے تقریباً 70 فیصد طیارے اور بھارت کی انڈیگو، ایئر انڈیا اور ایئر انڈیا ایکسپریس کے 200 سے 250 طیارے مرمت کے عمل سے گزریں گے۔ سعودی عرب کی سعودیہ اور فلائی ناس بھی اپنے A320 بیڑے کے لیے اپ ڈیٹس کا جائزہ لے رہی ہیں اور مسافروں کو براہِ راست مطلع کر رہی ہیں۔ گیٹ وِک میں تقریباً 80 طیاروں کے متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ نیوزی لینڈ، کینیڈا اور دیگر خطوں میں بھی مختلف سطح پر اثرات سامنے آ رہے ہیں۔
ایئربس کے مطابق زیادہ تر طیاروں کو صرف تین گھنٹے کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ درکار ہوگا، لیکن تقریباً 900 پرانے طیاروں میں ہارڈویئر تبدیلی لازم ہے اور وہ عمل مکمل ہونے تک مسافروں کو لے کر اڑان نہیں بھر سکیں گے۔ اپ ڈیٹ کا بنیادی حصہ طیارے کے نظام کو سابقہ سافٹ ویئر ورژن پر واپس لانا ہے۔ محدود فیری فلائٹس کی اجازت ہوگی تاکہ طیاروں کو مینٹیننس مراکز تک منتقل کیا جا سکے۔
ایئربس اور عالمی ریگولیٹرز نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ احتیاطی بنیادوں پر کیا گیا ہے اور اس مسئلے سے کوئی حادثہ براہِ راست منسلک نہیں۔ تاہم تاخیر، منسوخیاں اور طویل ٹرن اراؤنڈ ٹائمز عالمی فضائی آپریشنز کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ایئرلائنز کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشنز، ایس ایم ایس اور ای میلز چیک کرتے رہیں تاکہ شیڈیول میں کسی بھی تبدیلی سے آگاہ رہ سکیں۔







