متحدہ عرب امارات

ہمیشہ مسکراتا رہنے والا جیسفرسن، شارجہ کے خاندان نے بیٹے کو آخری الوداع کہا

خلیج اردو
شارجہ: لندن میں ایک موٹرسائیکل حادثے میں جاں بحق ہونے والے 27 سالہ جیسفرسن جسٹن کو شارجہ میں جذباتی انداز میں الوداع کہا گیا۔ شارجہ کے جویزہ علاقے میں واقع کریمیشن سینٹر میں 50 سے زائد افراد جمع ہوئے اور اس "ہمیشہ مسکراتے رہنے والے” نوجوان کی یاد میں جذباتی خراجِ عقیدت پیش کیا۔

جیسفرسن کے والد جسٹن نے بتایا کہ "ہم ایک نجی تقریب چاہتے تھے، مگر اس کے بہت سے دوست اور اسکول کے ساتھی بھی پہنچ گئے۔ وہ دوستوں میں بہت مقبول تھا اور ہر کوئی اپنے انداز میں اسے خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتا تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ تدفین کے بعد اُنہیں اور اہلِ خانہ کو جو ذہنی سکون ملا ہے، وہ ناقابلِ بیان ہے۔

جیسفرسن 25 جولائی کو لیڈز، برطانیہ میں کام سے واپسی پر پیش آنے والے حادثے میں جان سے گیا۔ ضروری قانونی کارروائیوں کے بعد اس کی میت بدھ کے روز یو اے ای منتقل کی گئی۔ جسٹن نے کہا کہ "ہم یو اے ای سفارتخانے کے شکر گزار ہیں جنہوں نے مسلسل رابطے میں رہ کر ہر قدم پر ہماری راہنمائی کی۔”

 

خاندانی تقریب میں اسکول کے پرنسپل، ایک دیرینہ خاندانی دوست استاد، ایک سماجی کارکن، اور دوستوں کی جانب سے نمائندہ افراد نے جیسفرسن کی زندگی اور خوبیوں پر بات کی۔ جسٹن کے مطابق "ایک دوست نے بتایا کہ جب جیسفرسن اسکول میں شرارت کرتا، تو استاد کے سامنے معصوم سی مسکراہٹ کے ساتھ آ کھڑا ہوتا، جس پر استاد بھی ناراض نہ رہ پاتا۔ یہ واقعہ ہمیں پہلی بار معلوم ہوا، اور جان کر دل کو خوشی ملی۔”

 

تین بھائیوں میں درمیانے نمبر پر ہونے والا جیسفرسن شارجہ میں پلا بڑھا اور اپنی متحرک شخصیت و صلاحیتوں کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔ اس کے والد کے مطابق وہ "ہر فن مولا” اور محنتی نوجوان تھا۔ بچپن سے ہی وہ گانے، رقص، اور بعد میں ریپ شاعری، فوٹوگرافی اور دیگر تخلیقی مشاغل میں دلچسپی رکھتا تھا۔ لندن میں وہ اکثر دیہی علاقوں میں بائیک رائیڈز کرتا اور خوبصورت مناظر کی تصاویر اہلِ خانہ کو بھیجتا۔

جسٹن نے مزید کہا، "وہ کسی بھی کام سے نہیں گھبراتا تھا۔ تعلیم کے دوران جزوقتی ملازمت کرتا رہا۔ کبھی کلب میں لوڈنگ کا کام کرتا، کبھی کوئی اور۔ وہ کبھی ہم سے پیسے نہیں مانگتا تھا، ہمیشہ خود کفیل اور خوش مزاج رہتا۔”

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button