
خلیج اردو
دبئی — متحدہ عرب امارات کے طبی ماہرین نے بیرونِ ملک سفر کرنے والے افراد کو خبردار کیا ہے کہ وہ عوامی سوئمنگ پولز، حماموں اور واٹر پارکس کے استعمال میں احتیاط برتیں، کیونکہ بیرون ملک تمام سوئمنگ پولز حفظان صحت کے اعلیٰ معیار پر پورے نہیں اترتے۔
گرمیوں میں ٹھنڈے پانی میں ڈبکی لگانا ضرور راحت کا ذریعہ ہوتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق ناقص صفائی والے پولز مختلف اقسام کے بیکٹیریا، وائرس اور پیراسائٹس کی افزائش گاہ بن سکتے ہیں، جو پیٹ کی خرابی، جلدی خارش، کانوں کے انفیکشن اور سانس کی بیماریوں جیسے مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔
پول کا پانی کتنا آلودہ ہو سکتا ہے؟
Verywell Health اور CDC کے مطابق ایک بالغ شخص 45 منٹ کی تیراکی کے دوران اوسطاً ایک چمچ پانی نگل لیتا ہے — جو بیماری پیدا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ صرف بالوں کے ذریعے 1 کروڑ جراثیم پول میں منتقل ہو سکتے ہیں، جبکہ ایک قطرہ تھوک سے 80 لاکھ۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ڈاکٹر شیرین حسین، اسپیشلسٹ انٹرنل میڈیسن، میڈیور اسپتال ابوظبی کے مطابق، "متحدہ عرب امارات میں پولز کی صفائی کے معیارات بلند ہیں، مگر بیرونِ ملک اکثر پولز مناسب دیکھ بھال سے محروم ہوتے ہیں، جس سے اسہال، جلدی انفیکشن اور یہاں تک کہ سانس کی بیماریاں بھی لاحق ہو سکتی ہیں۔”
وہ مزید کہتی ہیں: "کلورین ریش اور انفیکشن سے بچنے کے لیے نہانے سے پہلے اور بعد میں شاور لینا، کھلے زخموں کے ساتھ تیراکی سے گریز، حفاظتی کریم، سوئمنگ کیپ اور ایئر پلگ کا استعمال ضروری ہے۔”
Cryptosporidium: خطرناک پیراسائٹ
CDC کے مطابق Cryptosporidium ایک ایسا پیراسائٹ ہے جو پانی سے پھیلنے والے اسہال کا سبب بنتا ہے اور باقاعدگی سے کلورین ملے پانی میں بھی 10 دن سے زیادہ زندہ رہ سکتا ہے۔ ادارہ تجویز کرتا ہے کہ اسہال کے بعد کم از کم دو ہفتے پانی سے دور رہا جائے۔
ڈاکٹر مزہ صلاح الدین، اسپیشلسٹ فیملی میڈیسن، این ایم سی اسپیشلٹی اسپتال، العین نے خبردار کیا کہ غیر صحت مند پولز نہ صرف پیٹ کی بیماریاں بلکہ جلدی انفیکشن، کان کے مسائل اور یہاں تک کہ پھیپھڑوں کی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
ان کے مطابق E.coli، Salmonella اور Norovirus جیسے جراثیم آلودہ پانی کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں، جبکہ Staphylococcus جیسے بیکٹیریا جلد میں زخموں کے ذریعے داخل ہو کر انفیکشن پیدا کر سکتے ہیں۔
پبلک پولز کی صفائی کتنی ضروری ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق عوامی سوئمنگ پولز کو ہفتے میں کم از کم دو سے تین بار صاف کرنا اور پانی کو ہر ماہ تبدیل کرنا ضروری ہے تاکہ حفظانِ صحت کے معیار برقرار رہیں۔
ڈاکٹر محمد صفیان شجاعان، اسپیشلسٹ انٹرنل میڈیسن، آستر کلینک، عجمان کے مطابق: "چھٹیوں کے سیزن میں پولز میں رش بڑھ جاتا ہے، اس لیے اس دوران کلورین کی مقدار، فلٹریشن اور عوامی صفائی کے سخت اصولوں پر عمل ضروری ہے۔ ورنہ آبی جراثیم کا پھیلاؤ ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔”
مختصر مشورے برائے مسافرین:
-
نہانے سے پہلے اور بعد میں شاور لیں
-
زخموں کے ساتھ پول میں نہ جائیں
-
بچوں، حاملہ خواتین، اور کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد خصوصی احتیاط برتیں
-
پول کا پانی نگلنے سے گریز کریں
-
صاف ستھری جگہوں کا انتخاب کریں







