
خلیج اردو
دبئی — متحدہ عرب امارات میں عبایا نے خاموشی مگر بھرپور انداز میں اپنی صورت بدل لی ہے۔ کبھی مکمل طور پر روایتی لباس سمجھا جانے والا عبایا اب تخلیقی اظہار، انفرادی شناخت اور ثقافتی مکالمے کی علامت بن چکا ہے۔ نئی نسل کی اماراتی ڈیزائنرز عبایا کو اس انداز میں پیش کر رہی ہیں جو روایتی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے جدید ذوق سے ہم آہنگ ہے۔
222کلٹ کی بانی فاطمہ مرشد العسییفی کا کہنا ہے کہ عبایا کا ارتقاء اماراتی خواتین کے اندر بڑھتی ہوئی ثقافتی خود اعتمادی اور ذاتی اظہار کی خواہش کا مظہر ہے۔ ان کے مطابق خواتین اب ایسے ملبوسات چاہتی ہیں جو روایت کا احترام کرتے ہوئے ان کی شخصیت کی عکاسی بھی کریں، جس کے نتیجے میں عبایا کی ساخت، رنگ اور تفصیل میں جدت آئی ہے۔
گرمیوں میں یہ تبدیلی مزید واضح ہو جاتی ہے، جہاں ہلکے اور نرم کپڑے، پیسٹل رنگ اور کھلے کٹ والے عبایا مقبول ہو رہے ہیں۔ فاطمہ بتاتی ہیں کہ اس سیزن میں دو مختلف کپڑوں کا امتزاج، پھولوں والے ڈیزائن اور آرام دہ انداز زیادہ پسند کیے جا رہے ہیں۔
سادگی سے جدت تک کا سفر
لیا دی لیبل کی بانی لیا الحوسنی کہتی ہیں کہ عبایا کی بنیاد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، بلکہ یہ ڈیزائن کے لحاظ سے ترقی کر رہا ہے۔ "یہ پہلے صرف سادہ سیاہ ہوتا تھا، اب سلک، کریپ اور لینن جیسے کپڑے استعمال ہو رہے ہیں لیکن حیا کی قدر اب بھی برقرار ہے،” وہ وضاحت کرتی ہیں۔
لیا کے مطابق موسم گرما کے عبایا ہلکے رنگوں جیسے بیج، ہلکا زرد، اور بیبی پنک میں تیار کیے جاتے ہیں جن میں موتی، سی شیلز اور پھولوں کے پرنٹس جیسے تفریحی عناصر شامل ہوتے ہیں تاکہ ملبوسات گرمیوں کے مزاج سے ہم آہنگ رہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا نے عبایا کے بارے میں دنیا بھر میں آگاہی پھیلائی ہے، تاہم بعض اوقات ایسے پلیٹ فارمز پر اس لباس کی ثقافتی اور مذہبی اہمیت کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ وہ بطور مقامی ڈیزائنر اس ذمے داری کو محسوس کرتی ہیں کہ عبایا کی اصل روح کو باقی رکھتے ہوئے لوگوں کو شعور بھی دیا جائے۔
نئے زاویے، نئی پہچان
Beloura.ae کی بانی نعمہ کہتی ہیں کہ عبایا کی تبدیلی صرف ڈیزائن تک محدود نہیں بلکہ اس کے بارے میں لوگوں کے تاثر میں بھی نمایاں فرق آیا ہے۔ اب عبایا صرف سیاہ یا سادہ نہیں بلکہ مختلف رنگوں اور انداز میں قابلِ قبول ہے، بشرطیکہ حیا کا دائرہ قائم رہے۔
نعمہ کے مطابق اس سیزن میں بٹر یلو، پیسٹل شیڈز اور شوخ رنگوں کی مانگ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ خواتین روزمرہ لباس میں چمکدار رنگوں کو اپنا رہی ہیں۔
ثقافتی ورثے کی نئی زبان
عبایا کی تعریف کرنے والی قصائد التمیمی کے مطابق یہ تبدیلی صرف جمالیاتی نہیں بلکہ ثقافتی شعور کی علامت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عبایا اب صرف ایک لباس نہیں بلکہ ایک بیانیہ ہے — خواتین کی بڑھتی ہوئی سماجی شراکت، معاشی ترقی اور ثقافتی اعتماد کا آئینہ۔
نئی نسل عبایا کو صرف پردے کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی شناخت کے اظہار کے طور پر دیکھتی ہے۔ یہ اب اسنیکرز، جاذبِ نظر ٹیکسچرز اور خوشگوار لوازمات کے ساتھ پہنا جاتا ہے، جس میں شخصیت، مزاج اور سڑکوں کی فیشن جھلکتی ہے۔
قصائد کا کہنا ہے کہ عبایا کی یہ جدت روایت کو ترک کرنے کی نہیں، بلکہ اس کی نئے انداز میں تشریح ہے، جو ثقافتی جڑوں کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی فیشن کے رجحانات سے ہم آہنگ ہوتی جا رہی ہے۔







