خلیج اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی بڑھتی ہوئی کوششیں امن عمل کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور یہ ’’حماس کے حملوں کا انعام‘‘ ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر غزہ میں جنگ بندی کے قیام کی کوششوں میں شامل رہے ہیں، جو تقریباً دو برس سے جاری ہے اور جس میں ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں جبکہ پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ طاقتور ممالک کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنا امن کوششوں کو کمزور کرتا ہے اور حماس کو مزید حوصلہ دیتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ’’یہ حماس کے مظالم کا انعام ہو گا‘‘۔ ان کے اس بیان پر جنرل اسمبلی کے ہال میں تالیاں بجیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’’جو لوگ امن چاہتے ہیں انہیں ایک پیغام پر متحد ہونا چاہیے: یرغمالیوں کو فوری رہا کیا جائے‘‘۔
ٹرمپ نے حماس کو بار بار دہشت گرد تنظیم قرار دیا اور کہا کہ دنیا کو اس کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یرغمالیوں کے خاندان اپنے پیاروں کی لاشوں کی واپسی کے بھی منتظر ہیں، یہ انسانی وقار کا معاملہ ہے۔
ٹرمپ نے اقوام متحدہ پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ ’’یو این نے جنگیں ختم کرنے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی، یہ سب خالی الفاظ ہیں‘‘۔ انہوں نے عالمی ادارے کو ’’بگڑتی ہوئی عالمی نظام‘‘ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’’اقوام متحدہ کا مقصد کیا ہے، جب یہ اپنے مشن پر عمل ہی نہیں کر رہا؟‘‘
امریکی صدر نے اپنی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے دوسرے دورِ صدارت میں صرف سات ماہ میں سات تنازعات ختم کیے، جن میں پاکستان اور بھارت، اسرائیل اور ایران، اور آرمینیا اور آذربائیجان کے تنازعات شامل تھے، اگرچہ ماہرین ان دعوؤں کو غیر مستقل قرار دیتے ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کو دنیا کا سب سے بڑا ’’دہشت گردی کا سرپرست‘‘ کہا اور انکشاف کیا کہ انہوں نے اس سال ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کا حکم دیا تھا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کھلی سرحدوں، اقوام متحدہ کی جانب سے مہاجرین کی امداد، حیاتیاتی ہتھیاروں کے خطرات اور مصنوعی ذہانت کی نگرانی جیسے موضوعات پر بھی کڑی تنقید کی۔
تاہم ان کی تقریر کا سب سے نمایاں حصہ غزہ اور فلسطین کو تسلیم کرنے کی حالیہ عالمی لہر پر تنقید تھی۔ انہوں نے کہا کہ امن تب ہی ممکن ہے جب یرغمالیوں کو رہا کیا جائے اور دونوں اطراف سے ایسے رہنما سامنے آئیں جو واقعی پرامن بقائے باہمی چاہتے ہوں۔







