
خلیج اردو
دبئی – بھارتی صنعتکار اور ارب پتی سنجے کپور کی انگلینڈ میں اچانک موت نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کر لی ہے، خصوصاً طبی ماہرین کی جانب سے، کیونکہ اطلاعات کے مطابق ایک شہد کی مکھی کے ڈنک سے انہیں جان لیوا دل کا دورہ پڑا۔ کپور، جو بالی ووڈ اداکارہ کرشمہ کپور کے سابق شوہر بھی تھے، جمعرات کے روز ایک پولو میچ کے دوران انتقال کر گئے۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق، کھیل کے دوران وہ غلطی سے ایک شہد کی مکھی نگل گئے تھے، جس کے بعد مبینہ طور پر انہیں دل کا دورہ پڑا۔
نایاب مگر مہلک پیچیدگیاں
خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے ماہرین صحت نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پرائم میڈیکل سینٹر برجمان برانچ کی ماہر امراض قلب ڈاکٹر سُما مالنی وکٹر کے مطابق، "شہد کی مکھی کو نگلنے سے شاذ و نادر ہی سہی مگر جان لیوا پیچیدگیاں جیسے انفیلیکٹک شاک (شدید الرجی کا ردعمل) اور دل کا دورہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جنہیں کیڑے کے زہر سے الرجی ہو۔ یہاں تک کہ جنہیں الرجی نہیں، اگر مکھی گلے، زبان یا سانس کی نالی میں ڈنک مارے تو یہ فوری سوجن اور سانس کی بندش کا سبب بن سکتی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق مکھی کا زہر دل کی شریانوں پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔”
الررجی سے دل کے دورے تک: کونِس سنڈروم
مدیور اسپتال ابوظہبی کے فیملی میڈیسن کے ماہر ڈاکٹر سعد کامل دلی نے بتایا، "اگرچہ عام آبادی میں کیڑے کے ڈنک سے شدید الرجی کم ہوتی ہے، تاہم جن افراد کو الرجی ہو، ان میں اس کی شرح 5 سے 10 فیصد تک ہوتی ہے۔ لیکن اگر ڈنک سانس کی نالی میں لگے، تو چاہے الرجی ہو یا نہ ہو، یہ ایک ہنگامی صورتحال ہوتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، "کچھ کیسز میں یہ ’کونِس سنڈروم‘ کو متحرک کر سکتا ہے، جس میں الرجی دل کی شریانوں میں اینٹھن پیدا کر دیتی ہے، جو دل کے دورے کا سبب بن سکتی ہے، یہاں تک کہ ان افراد میں بھی جنہیں پہلے دل کی بیماری نہیں ہوتی۔”
ہنگامی ردعمل ضروری قرار
انٹرنیشنل ماڈرن اسپتال کے ماہر امراض قلب ڈاکٹر ہشام طیّل نے فوری طبی امداد کو ایسی صورتحال میں نہایت اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "ڈنک کی جگہ فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے — اگر ڈنک زبان، گلے یا منہ کے اندر لگے تو خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، چاہے کسی کو الرجی ہو یا نہ ہو۔ شدید ذہنی دباؤ، آکسیجن کی کمی یا سانس پھولنا دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی یا دل کے دورے کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جنہیں دل کی کوئی پوشیدہ بیماری ہو۔”
انہوں نے سفارش کی کہ جن افراد کو کبھی الرجی کا سامنا رہا ہو، انہیں الرجی کے ماہر کے پاس بھیجا جانا چاہیے تاکہ وہ الرجی ٹیسٹ، وینم امیونوتھراپی اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے اقدامات کر سکیں۔ جن افراد کو شہد کی مکھی کے ڈنک سے الرجی ہو، وہ ہمیشہ اپنے ساتھ ایپی پین (EpiPen) رکھیں۔







