
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے ماہ اضافے کے بعد روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء مہنگی ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بڑی سپر مارکیٹ چینز کے اعلیٰ عہدیداروں کے مطابق تازہ پھل، سبزیاں، دودھ، دہی، پنیر، منجمد غذائیں، روٹی اور بعض درآمدی اشیاء کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
رواں سال جون کے لیے پیٹرول کی قیمتوں میں تقریباً 8 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ فروری 2026 کے بعد سے ایندھن کی قیمتیں مجموعی طور پر تقریباً 66 فیصد بڑھ چکی ہیں۔ بڑھتے ہوئے عالمی تیل نرخوں کے باعث سپر 95، اسپیشل 95 اور ای پلس 91 کی نئی قیمتیں بالترتیب 3.95، 3.83 اور 3.76 درہم فی لیٹر مقرر کی گئی ہیں۔
العدل ٹریڈنگ کے چیئرمین ڈاکٹر دھننجے دتار کے مطابق وہ مصنوعات جو نقل و حمل، کولڈ چین نظام اور درآمدات پر زیادہ انحصار کرتی ہیں، ان کی قیمتوں میں نسبتاً زیادہ اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ ان میں تازہ سبزیاں، پھل، دودھ کی مصنوعات، خوردنی تیل اور دیگر درآمدی اشیائے صرف شامل ہیں۔
المایا گروپ کے نائب چیف ایگزیکٹو کمال وچانی کا کہنا ہے کہ طویل فاصلے سے درآمد ہونے والی اشیاء، پیک شدہ غذائیں اور منجمد مصنوعات لاجسٹک اخراجات بڑھنے سے متاثر ہو سکتی ہیں، تاہم کمپنی صارفین پر بوجھ کم رکھنے کے لیے سپلائرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
دوسری جانب چوئترامز کے چیف ایگزیکٹو مارک مورٹیمر ڈیوس نے کہا کہ صارفین کو فوری طور پر تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ ایندھن کسی بھی مصنوعات کی مجموعی لاگت کا صرف ایک حصہ ہوتا ہے۔ خام مال، پیداواری اخراجات اور کرنسی کی صورتحال بھی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایندھن کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہیں تو آنے والے مہینوں میں مختلف اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 3 سے 8 فیصد تک بتدریج اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم بڑی ریٹیل کمپنیاں اپنے منافع اور آپریشنل اخراجات میں ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین پر اثرات کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔







