
خلیج اردو
07 ستمبر 2020
دبئی: متحدہ عرب امارات کے نائب صدر و وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم سے وزارت موسمیاتی تغیر و ماحول کے وفد نے ملاقات کی۔
ملاقات میں وفد نے کورونا کے بعد اپنے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔
في استعراضنا لخطة وزارة البيئة المستقبلية أكدنا على أهمية تعزيز مواردنا الزراعية والسمكية والحيوانية .. ودعم منتجاتنا .. والعمل على تكامل الجهود الاتحادية والمحلية للحفاظ على تنوع وجودة منظومتنا البيئية الحيوية pic.twitter.com/jC79QQIf1g
— HH Sheikh Mohammed (@HHShkMohd) September 6, 2020
شیخ محمد نے ہدایت کی کہ غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے تمام تر اقدامات کیے جائیں۔ ہمارا مقصد ملک کو غذا کے حوالے سے خودمختار بنانا ہے۔
شیخ محمد نے کہا کہ متحدہ عرب امارات وہ پہلے ملک تھا جس نے موسمیاتی تغیر کے خطرات کو جان کر اس کے سدباب کیلئے ضروری اقدامات کیے۔
انہوں نے اقوام عالم سے کورونا وائرس کے خلاف ملکر سدباب ڈھونڈنے کیلئے اقدامات پر زور دیا۔
وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات ڈاکٹر عبداللہ بحف آل نیمی متحدہ عرب امارت کے پاس جنگلی اور آبی حیات کی وافر مقدار موجود ہے۔ ملک کی ترجیحات میں ماحول کے تحفظ کیلئے اقدامات سرفہرست ہیں جس کیلئے وزارت نے نیشنل بائیو ڈائورسٹی پلان اور یو اے ای سمارٹ میپ آف نیچرل کیپٹل کے مسودے تیار کیے ہیں۔
آل نیمی نے بتایا کہ آبی حیات اور ماحول کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے ہیں ۔ ہم نے نیشنل کلائمنٹ چینج پلان پر کام شروع کیا ہے جو خطے میں اس نوعیت کی منفرد حکمت عملی ہے۔
انہوں نے وفاقی قانون کے اس مسودے کا بھی حوالہ دیا جو موسمیاتی تغیر کے اثرات کو کم کرنے کیلئے بنایا گیا ہے۔
آل نیمی نے مزید کہا کہ ہوا کے معیار کو بہتر بنانا بھی ترجیحات میں شامل ہے۔ متحدہ عرب امارت نے 2007 میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے ملک میں 54 مانیٹرنگ اسٹیشن قائم ہیں۔
Source : Khaleej Times







