متحدہ عرب امارات

’بھائی، باس نہیں‘ — دبئی میں 5 کروڑ درہم جیتنے والے پاکستانی کی کہانی دوبارہ زیرِ بحث

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں حالیہ 100 ملین درہم جیتنے والے خوش نصیب کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی، مگر اس موقع پر سابق فاتح جنید رانا کی کہانی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جنہوں نے اکتوبر 2021 میں مہزوز ڈرا سے 50 ملین درہم جیت کر تاریخ رقم کی تھی۔

پاکستانی نژاد جنید رانا اس وقت 36 برس کے تھے اور دبئی میں بطور کارپوریٹ ڈرائیور 6 ہزار درہم ماہانہ تنخواہ پر ملازمت کر رہے تھے۔ ایک روز وہ گروسری لینے نکلے تو کھانے پینے کی چیزوں کے بجائے مہزوز ٹکٹ خرید لیا — اور یہی فیصلہ ان کی زندگی بدل گیا۔

انہوں نے ٹکٹ پر نمبرز اتفاقیہ طور پر منتخب کیے (6، 11، 21، 32، 33، 46) اور وہی جیتنے والے نمبرز ثابت ہوئے۔ ڈرا کی رات جب انہیں جیت کی خبر ملی تو ان کے بقول "یوں لگا جیسے میرے قدموں تلے زمین نکل گئی ہو۔”

جنید نے اپنی جیت کے فوراً بعد سب سے پہلے اپنا ایک لاکھ درہم کا قرض ادا کیا، اپنے بھائی کا قرض بھی چکایا، اور اپنے حجام (باربر) کی شادی کے اخراجات اٹھانے کی پیشکش کی۔ بعدازاں انہوں نے دبئی اور پاکستان دونوں جگہ اپنے خاندان کے لیے گھر خریدے۔

**دوسری بڑی جیت**
جنید نے اپنی رقم بینک میں جمع کرائی جس سے ان کی خوش قسمتی نے ایک بار پھر ساتھ دیا۔ اگست 2022 میں انہوں نے ایمریٹس این بی ڈی کے میگا سیونگز اسکیم میں مرسڈیز AMG G63 جیت لی، جس کی مالیت 13.6 لاکھ درہم تھی۔ اس سے قبل وہ اپنا خوابوں کی گاڑی نسان GTR بھی خرید چکے تھے۔

جنید نے دولت کو صرف خرچ نہیں کیا بلکہ اسے سمجھداری سے لگایا۔ انہوں نے دبئی میں رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی، جس سے انہیں ماہانہ 50 ہزار درہم سے زیادہ کرایہ حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی ولاز اور اپارٹمنٹس خریدے اور اسلام آباد میں اپنا ذاتی گھر تعمیر کیا۔

**سادگی اور انکساری برقرار**
جنید نے اعتراف کیا کہ جیت کے بعد کچھ منفی تجربات بھی ہوئے۔ "میں نے اپنے دور کے رشتہ داروں کو بھی مالی مدد دی، لیکن پھر بھی کچھ باتیں منفی ہوئیں۔” تاہم انہوں نے کہا کہ وہ صرف مثبت پہلوؤں پر توجہ دیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب ان کے ملازمین انہیں ’باس‘ کہہ کر پکارتے تھے تو وہ خود کو عجیب محسوس کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا: "میں پہلے خود دوسروں کو باس کہتا تھا، اب جب کوئی مجھے کہتا ہے تو عجیب لگتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے ملازمین مجھے بھائی سمجھیں، باس نہیں۔”

جنید نے مزید کہا کہ "اللہ نے مجھے بہت نوازا ہے، میری والدہ ہر بار فون پر دعائیں دیتی ہیں، یہی میرے لیے سب سے بڑی دولت ہے۔”

واضح رہے کہ مہزوز ڈرا جنوری 2024 میں بند کردیا گیا تھا، جس کے بعد یو اے ای لٹری کا قیام عمل میں آیا جو گیم ریگولیٹری اتھارٹی (GCGRA) کے تحت ملک کا پہلا باضابطہ ریگولیٹڈ لاٹری نظام ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button