متحدہ عرب امارات

دبئی کا نیا اقدام ‘سرکل دبئی’، فی شہری یومیہ کچرا نصف کلوگرام تک کم کرنے کا ہدف

خلیج اردو
دبئی، 27 اکتوبر 2025: دبئی میونسپلٹی نے ماحولیاتی آگاہی کو فروغ دینے اور پائیدار ویسٹ مینجمنٹ کے ذریعے سرکلر اکانومی کی جانب منتقلی کے لیے ‘سرکل دبئی’ کے نام سے نیا شہر گیر پروگرام شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت دبئی نے فی شہری یومیہ کچرے کی مقدار 2.2 کلوگرام سے کم کر کے 1.76 کلوگرام کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

دبئی ان شہروں میں شامل ہے جہاں فی کس سب سے زیادہ کچرا پیدا ہوتا ہے، یومیہ تقریباً 13 ہزار ٹن فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ سرکل دبئی منصوبے کے ذریعے حکام کا مقصد کچرے کی پیداوار میں کمی، ری سائیکلنگ کی شرح میں اضافہ، اور معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔

پروگرام کے تحت عوامی اور رہائشی علاقوں میں اسمارٹ ری سائیکلنگ بنز نصب کیے جائیں گے، جبکہ اداروں میں کچرے کو علیحدہ کرنے کے لیے مخصوص کنٹینرز فراہم کیے جائیں گے تاکہ فضلہ منبع پر ہی الگ کیا جا سکے۔

یہ اقدام دبئی کی پائیداری، اختراع اور کمیونٹی کی قیادت میں ماحولیاتی اقدامات کے وسیع وژن کا حصہ ہے، جو دبئی کو سرکلر اکانومی کے عالمی رہنما کے طور پر مستحکم کر رہا ہے۔

دبئی میونسپلٹی کے ویسٹ اسٹریٹیجی اور پراجیکٹس ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر انجینئر محمد الرییس نے بتایا کہ "سرکل دبئی” دبئی انٹیگریٹڈ ویسٹ مینجمنٹ اسٹریٹیجی 2041 کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق، "ہم دنیا کے صاف ترین شہروں میں شامل ہیں، مگر اب ہمارا فوکس کچرے کی پیداوار میں کمی اور منبع پر ری سائیکلنگ کو بہتر بنانے پر ہے۔ ہمارا ہدف فی شہری یومیہ فضلہ 2.2 کلوگرام سے کم کر کے 1.76 کلوگرام تک لانا ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کے ذریعے 2041 تک کچرے میں 18 فیصد کمی اور 100 فیصد ٹھوس فضلہ لینڈ فلز سے ہٹانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، "فضلہ اب صرف فضلہ نہیں بلکہ ایک قیمتی ذریعہ ہے، ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ کچرے کو درست طریقے سے الگ کرے تاکہ اسے نئی قدر میں بدلا جا سکے۔”

یہ منصوبہ تعلیم، تجارت اور رئیل اسٹیٹ سمیت نو کلیدی شعبوں میں شراکت داری کے ذریعے عمل میں لایا جا رہا ہے، جس میں دبئی ہولڈنگ اور اعمار جیسے بڑے ادارے بھی تعاون کر رہے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button