متحدہ عرب اماراتمتحدہ عرب امارات کرونا اپڈیٹ

متحدہ عرب امارات میں کورونا کیسز میں ایک بار پھر اضافہ ، ڈاکٹروں نے عوام سے اپیل کر دی

کورونا وائرس کے حوالے سے ایس او پیز پر عمل کریں، کورونا کی دوسری لہر کو احتیاط کرکے آنے سے روک سکتے ہیں

دبئی: بدھ کو متحدہ عرب امارات میں کورونا وائرس کے گزشتہ 99 دنوں میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے، چوبیس گھنٹوں کے دوران حکومت نے 735 نئے کیسز کا اعلان کیا۔

بڑھتے ہوئے کیسز کو دیکھ کر نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان ڈاکٹر سیف آل دھہری نے کہا کہ اگرچہ کورونا وائرس کی دوسری لہر آنے پر قومی سٹریلائزین پروگرام کو دوبارہ نافذ کیا جائے گا لیکن تاحال حالات اس نہج پر نہیں پہنچے اسی لیے ہم قومی سطح کے بجائے مقامی سطح پر کورونا کے حوالے سے اقدامات کریں گے۔

ڈاکڑوں کے مطابق اس وقت غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے اور لوگ وائرس کا متواتر شکار بن رہے ہیں۔

ایک معروف اسپتال میں آئی سی یو کے سربراہ ڈاکٹر دیرار عبداللہ نے کہا ہے کہ ایسے وبائی امراض عام طور پر لہروں کی شکل میں آتے ہیں اور ہم نے ماضی میں آنے والے H1N1 وائرس کے بارے میں بھی دیکھا۔ عام طور موسم بدلنے سے دوسری لہر آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ویکسین کی عدم موجودگی اور سردی میں اضافہ کورونا کے کیسز میں اضافہ کی وجوہات ہیں۔

ڈاکٹر عبداللہ نے بتایا کہ اگرچہ اب پہلے کے مقابلے میں طبی ٹیم زیادہ تجربہ کار ہو گئی ہے اور کورونا سے لڑتے ہوئے حکمت عملی مزید مضبوط ہو چکی ہے تاہم ماہرین سمجھتے ہیں کہ کورونا کی ممکنہ دوسری لہر پہلے سے خراب معاشی صورت حال کو مزید گھمبیر بنا سکتی ہے۔

آر اے کے اسپتال کے سی ای او ڈاکٹر جین مارک گاور نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وباء کی دوسری لہر بلاشبہ نہایت خطرنات ہو سکتی ہے اور ہمیں کافی محطاط ہونا ہوگا اور اس حوالے سے موجود قواعد وضوابط پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

ڈاکٹروں کو یقین ہے کہ متحدہ عرب امارات وائرس سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے اور صحت کے ادارے اور مراکز بہترین طریقے سے مقابلہ کررہے ہیں تاہم روزمرہ کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں لازمی ٹیسٹنگ کو یقین بنایا جائے تو بہتر ہوگا۔

ابھی تک حکومت نے 7۔2 ملین کورونا وائرس کے ٹیسٹ کیے ہیں اور اس سے کورونا کو شکست دینا میں کافی مدد ملی ہے۔

ڈاکٹر عبداللہ کے مطابق وزارت صحت نے کافی اقدامات کیے ہین ہم نے کامیابیاں بھی خوب حاصل کیں ہیں تاہم عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمیں فی الحال کورونا کو ختم کرنے کی کامیابی حاصل نہیں ہوئی اسی لیے اس مرض کے ساتھ جینا ہو گا اور خود کو بچانے کیلئے احتیطاطی تدابیر اختیار کرنے ہوں گے۔

Source : Khaleej Urdu

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button