
خلیج اردو
دبئی پولیس کی آگاہی مہم ‘متعافی’ میں ایک غمزدہ والد نے اپنے بیٹے کو منشیات کے ہاتھوں کھونے کی دلخراش داستان سنائی ہے۔ ابو عمر کے نام سے شناخت ظاہر نہ کرنے والے والد نے کہا: "میں یقین نہیں کر پا رہا تھا کہ اپنے ہی بچے کو دفن کر رہا ہوں”۔
یہ جذباتی گفتگو جمعرات کو سیکیورٹی آگاہی ڈیپارٹمنٹ اور جنرل ڈیپارٹمنٹ آف اینٹی نارکوٹکس کے اشتراک سے جاری ہونے والی ویڈیو سیریز ‘متعافی’ کے پہلے ایپیسوڈ میں کی گئی، جس کا عنوان تھا "درد کی چیخ اور جاگنے کی پکار”۔ اس میں بتایا گیا کہ کس طرح منفی صحبت نے ان کے بیٹے کو نشے کی طرف دھکیلا اور بالآخر وہ زندگی کی بازی ہار گیا۔
میزبان مہرہ المرزوقی نے اس ایپیسوڈ میں ناظرین کو خبردار کیا کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں منشیات و بری صحبت سے بچائیں۔ اس ویڈیوکاسٹ کا مقصد حقیقی کہانیوں کے ذریعے نشے کے نقصانات سے عوام کو آگاہ کرنا ہے۔
دبئی پولیس کے جنرل ڈیپارٹمنٹ آف کمیونٹی ہیپی نیس کے نائب ڈائریکٹر ڈاکٹر کرنل سعود الرمیثی نے بتایا کہ یہ مہم انسانیت پر مبنی ایک کوشش ہے تاکہ معاشرے کو بتایا جا سکے کہ منشیات کی لت نہ صرف مہلک ہے بلکہ اس سے چھٹکارا بھی ممکن ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ سیریز فیڈرل ڈگری قانون کی دفعہ 89 پر بھی روشنی ڈالتی ہے جس کے تحت نشے کے عادی افراد علاج کے لیے رجوع کر سکتے ہیں اور قانونی کارروائی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
عوامی شعور بیدار کرنے کی کوشش
ڈاکٹر الرمیثی نے کہا کہ یہ پروگرام دبئی پولیس کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد جدید میڈیا کے ذریعے عوامی آگاہی کو فروغ دینا ہے۔
‘متعافی’ ویڈیوکاسٹ دبئی پولیس کے یوٹیوب چینل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دستیاب ہوگا۔ ساتھ ہی منشیات سے بچاؤ کے لیے اسکولوں، کمپنیوں، شاپنگ مالز اور لیبر کیمپوں میں آگاہی مہمات بھی جاری ہیں۔
انٹرنیشنل پروٹیکشن سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبد الرحمن شرف المعمری کے مطابق: "ہم نے اس سال چار بڑے نمائشوں میں شرکت کی، جہاں 2 لاکھ 70 ہزار اسکول کے طلبا اور 20 ہزار سے زائد یونیورسٹی کے طالب علموں تک رسائی حاصل کی۔







