
خلیج اردو
دبئی میٹرو نے 9 ستمبر 2026 کو اپنے سفر کے 17 سال مکمل کرلیے۔ 1990 کی دہائی میں دیکھا گیا خواب 2009 میں حقیقت بنا اور آج دبئی میٹرو شہر کے ٹرانسپورٹ نظام کا اہم ترین حصہ بن چکی ہے۔
دبئی میٹرو کے منصوبے کی باقاعدہ منصوبہ بندی 2003 میں شروع ہوئی جبکہ 29 مئی 2005 کو منصوبے کا معاہدہ طے پایا۔ فروری 2007 میں شیخ زاید روڈ پر ایمریٹس ٹاورز میٹرو اسٹیشن کے مقام کی نشاندہی کی گئی اور 2008 میں مختلف اسٹیشنز پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری رہا۔
9 ستمبر 2009 کو دبئی میٹرو کا افتتاح ہوا اور شیخ محمد بن راشد المکتوم نے مال آف دی ایمریٹس اسٹیشن سے سفر کرتے ہوئے پہلے مسافر کا اعزاز حاصل کیا۔
دبئی میٹرو نے بالی ووڈ میں بھی جگہ بنائی جب سلمان خان اور سوناکشی سنہا نے فلم دبنگ کے ایک گانے کی شوٹنگ خالد بن ولید اسٹیشن میں کی جو اب برجمان اسٹیشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ستمبر 2011 میں گرین لائن کا افتتاح کیا گیا۔ ابتدائی طور پر 23 کلومیٹر طویل گرین لائن پر 18 اسٹیشنز تھے جبکہ اب یہ 22.5 کلومیٹر پر محیط ہے اور 20 اسٹیشنز کے ذریعے دبئی کے اہم علاقوں کو جوڑتی ہے۔
فروری 2012 میں دبئی میٹرو نے گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرتے ہوئے دنیا کے سب سے طویل ڈرائیور لیس میٹرو نیٹ ورک کا اعزاز حاصل کیا۔ ریڈ اور گرین لائنز کی مجموعی لمبائی اس وقت 75 کلومیٹر تھی۔
2013 میں دبئی میٹرو چلتی ٹرین کے اندر فیشن رن وے بھی بن گئی جہاں ماڈلز اور ڈیزائنرز نے فیشن شو پیش کیا۔
2016 میں 10.6 ارب درہم کے روٹ 2020 منصوبے کی منظوری دی گئی جس کے تحت ریڈ لائن کو 15 کلومیٹر تک توسیع دے کر ایکسپو 2020 تک پہنچایا گیا اور سات نئے اسٹیشنز قائم کیے گئے۔
2018 میں دبئی نے میٹرو کے ذریعے ایک اور گنیز ورلڈ ریکارڈ بنایا جب 96 مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ایک ساتھ سفر کیا۔
2019 میں پہلی مرتبہ دبئی میٹرو کے پانچ اسٹیشنز کو میوزک وینیوز میں تبدیل کیا گیا جہاں بین الاقوامی فنکاروں نے مسافروں کے لیے لائیو موسیقی پیش کی۔
کورونا وبا کے دوران بھی 9 ستمبر 2020 کو دبئی میٹرو کی 11ویں سالگرہ منائی گئی اور ایکسپو اسٹیشن پر دبئی ایگزیکٹو کونسل کا خصوصی اجلاس ہوا۔
جون 2025 میں دبئی میٹرو بلیو لائن کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ 30 کلومیٹر طویل بلیو لائن پر 14 اسٹیشنز ہوں گے اور یہ نو اہم علاقوں کو آپس میں ملائے گی۔ منصوبے کے مطابق بلیو لائن 9 ستمبر 2029 کو عوام کے لیے کھولی جائے گی۔
بلیو لائن پر دنیا کا بلند ترین میٹرو اسٹیشن ایمار پراپرٹیز اسٹیشن بھی تعمیر کیا جائے گا جو زمین سے 74 میٹر بلند ہوگا۔ اس منصوبے میں دبئی کریک پر 1.3 کلومیٹر طویل میٹرو پل بھی شامل ہے۔
اپریل 2026 میں دبئی میٹرو کی گولڈ لائن کی بھی منظوری دی گئی۔ 34 ارب درہم کی لاگت سے بننے والی 42 کلومیٹر طویل زیرزمین گولڈ لائن پر 18 اسٹیشنز ہوں گے اور اسے 9 ستمبر 2032 کو کھولنے کا منصوبہ ہے۔
دبئی میٹرو کے مسافروں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پہلے سال تقریباً 60 لاکھ افراد نے میٹرو سے سفر کیا جبکہ 2026 کی پہلی ششماہی میں مسافروں کی تعداد 13 کروڑ 65 لاکھ تک پہنچ گئی۔
برجمان اور یونین اسٹیشنز جو ریڈ اور گرین لائن دونوں سے منسلک ہیں سب سے زیادہ مصروف رہے جہاں بالترتیب 84 لاکھ اور 65 لاکھ مسافروں نے سفر کیا۔
دبئی میٹرو اب صرف سفر کا ذریعہ نہیں رہی۔ 2024 میں برجمان اسٹیشن پر ورک کو ورکنگ اسپیس قائم کرنے سے لے کر 2026 میں ڈیلیوری رائیڈرز کے لیے آرام اور گرمی سے بچاؤ کی جگہ فراہم کرنے تک میٹرو شہریوں کی سہولت اور روزمرہ ضروریات پوری کرنے کا بھی اہم ذریعہ بن چکی ہے۔







