متحدہ عرب امارات

شارجہ کے 2 ہزار سال پرانے ساحلی مقامات یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج کا درجہ حاصل کرنے کے قریب

خلیج اردو
شارجہ: جنوب مشرقی عرب کے قدیم ساحلی قلعہ بند نیٹ ورک کو یونیسکو کی عارضی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے جس کے بعد یو اے ای میں یونیسکو کی عارضی فہرست میں شامل مقامات کی تعداد 16 ہوگئی ہے۔ ان میں 6 مقامات شارجہ کے ہیں۔

اس نیٹ ورک میں دبّا الحصن، خورفکان اور خور کلبا کے تین تاریخی مقامات شامل ہیں جو تجارت، بحری سفر اور ساحلی دفاع میں اہم کردار کے باعث ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔

شارجہ آرکیالوجی اتھارٹی کے مطابق ان مقامات کی تاریخ 2 ہزار سال سے زائد پرانی ہے۔ یہ علاقے قدیم دور میں بحرِ ہند کے تجارتی راستوں کا حصہ رہے جبکہ بعد میں پرتگالی قبضے اور پھر القواسم کے دور میں بھی ساحلی تجارت اور دفاع کیلئے اہم رہے۔

دبّا الحصن میں آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوران نو سنگی دور سے 20ویں صدی تک انسانی آبادی کے شواہد ملے ہیں۔ یہاں درآمد شدہ شیشے سے مقامی برتن بنانے کی ورکشاپس، کھجور اور موتیوں کی پروسیسنگ کی سہولیات اور مچھلی کو نمک لگا کر محفوظ کرنے والی 19ویں صدی کی جگہ بھی دریافت ہوئی ہے۔

خورفکان قدرتی طور پر محفوظ بندرگاہ ہونے کے باعث قدیم زمانے میں جہازوں اور تاجروں کیلئے اہم پڑاؤ تھا۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کو یہاں دو بڑے قلعوں، قدیم گھروں اور تاریخی شہر کی فصیل کے آثار ملے ہیں جن میں 155 میٹر سے زیادہ لمبا حصہ بھی شامل ہے۔

خور کلبا اس نیٹ ورک کا جنوبی مقام ہے جو مینگرووز اور ساحلی پانیوں سے گھرا ہوا ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق پرتگالیوں کے قبضے سے قبل یہاں ایک قلعہ بند بستی موجود تھی۔ پرتگالیوں نے 1624ء میں یہاں قلعہ تعمیر کیا جس کے چار اطراف کی فصیل، دو گول برج اور مرکزی دروازے کے آثار دریافت ہوچکے ہیں۔

بعد میں خور کلبا القواسم کے بحری دائرۂ اثر میں شامل ہوا جہاں اس نے جہازوں کو رسد فراہم کرنے، ساحلی دفاع اور خلیج عمان میں آمدورفت کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

تینوں مقامات مجموعی طور پر اس قدیم بحری نظام کی عکاسی کرتے ہیں جس میں بندرگاہیں، قلعے اور ساحلی آبادیاں تجارت، جہاز رانی اور دفاع کیلئے ایک دوسرے سے منسلک تھیں۔

یونیسکو کی عارضی فہرست میں شمولیت مستقبل میں عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہونے کی ممکنہ نامزدگی کی جانب اہم قدم ہے۔ اگلے مرحلے میں تینوں مقامات پر مزید آثار قدیمہ کی تحقیق، مطالعات اور تحفظ کا کام کیا جائے گا۔

جولائی 2025ء میں فایہ پیلیولینڈ اسکیپ کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ العین کے ثقافتی مقامات کے بعد یو اے ای کا دوسرا عالمی ثقافتی ورثہ بن گیا تھا جو 2011ء میں فہرست میں شامل ہوا تھا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button