خلیج اردو 15 دسمبر 2021
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے نے انسداد منی لانڈرنگ،دہشتگردی اور غیر قانونی تنظیموں کی مالی اعانت کرنے کے حوالے سے بنائے قوانین کی خلاف ورزی پر 6حوالہ آپریٹرز کو 350000 درہم جرمانہ کیا ہے۔
سنٹرل بینک نے ہر آپریٹر کو پچاس ہزار درہم جرمانہ کیا جس میں اسی نوعیت کی پیشگی خلاف ورزی کے ساتھ ایک آپریٹر کو دوگنا جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔سنٹرل بینک نے متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے تمام رجسٹرڈ حوالہ آپریٹرز کو گو اےایم ایل سسٹم پر رجسٹرڈ ہونے کے لئے کافی وقت دیا۔حوالہ آپریٹرز کو رجسٹر نہ ہونے کی صورت میں جرمانہ کرنے کے بارے میں پیشگی بتایا گیا تھا۔
حوالہ رقم منتقلی کا ایک ایسا روایتی نظام ہے جس کے تحت ایک ایجنٹ کو ایک علاقے یا ملک میں رقم ادا کی جاتی ہے۔مذکورہ ایجنٹ دوسرے ملک میں موجود اپنے ساتھی کو بتائے گئے شخص کو اتنی رقم ادا کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔اس ذریعے سے رقم منتقل کرنےکا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا لہذا یہ رقم منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔
ریگولیٹرز کی جانب سے فائننشیل ایکشن ٹاسک فورس فریم ورک کی ہدایات کی روشنی میں انسداد منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت کے ضوابط کو مزید سخت کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز مرکزی بینک کی جانب سے انسداد منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت کے حوالے سے قوانین کی خلاف ورزی پر نجی بینک کو انیس عشاریہ پانچ ملین درہم کا جرمانہ کیا گیا۔
SOURCE: KHALEEJ TIMES







