
خلیج اردو
دبئی: دیوالی کے موقع پر سونا خریدنے والے یو اے ای کے صارفین کو نرخوں میں اچانک کمی کے باعث بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ماہرین اور جیولرز کے مطابق، سونے کی قیمتوں میں تیز گراوٹ کے بعد خریداروں کے سرمایہ کی مالیت چند گھنٹوں میں ہی ہزاروں درہم کم ہو گئی۔
سینچری فنانشل کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر وجے ویلیچا کے مطابق، 21 اکتوبر کو دبئی میں 24 قیراط سونا فی تولہ 525.25 درہم کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا، تاہم شام تک قیمت کم ہو کر 485 درہم فی گرام رہ گئی، یعنی تقریباً 30 درہم فی گرام کمی۔ اسی طرح 22 قیراط سونا 486 درہم سے گر کر 458 درہم فی گرام پر آ گیا۔ یہ 2013 کے بعد بین الاقوامی سطح پر ایک روز میں سب سے بڑی کمی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی خریدار نے دیوالی کے دن 10 گرام 24 قیراط سونا خریدا تھا تو اسے تقریباً 300 درہم کا نقصان ہوا، جب کہ 100 گرام خریدنے والوں کے لیے یہ نقصان 3 ہزار درہم تک جا پہنچا۔
22 اکتوبر کو سونے کی قیمت مزید کم ہو کر 484 درہم فی گرام رہ گئی، جس سے خریداروں کے کاغذی نقصانات میں مزید اضافہ ہوا۔ جمعرات 23 اکتوبر کی صبح 24 قیراط سونا 496.5 درہم، 22 قیراط 459.75 درہم، 21 قیراط 440.75 درہم اور 18 قیراط 377.75 درہم فی گرام میں فروخت ہو رہا تھا۔
طویل عرصے سے یو اے ای میں مقیم وِنیٹا ہیرانی کا کہنا ہے کہ ’’یہ طلب و رسد کا معاملہ ہے، موجودہ جغرافیائی صورتحال میں میں اپنی رقم کو ایسے اثاثے میں لگانا بہتر سمجھتی ہوں جس کی طویل مدتی قدر مستحکم ہو، جیسے سونا۔‘‘
اماری کیپیٹل کے شریک بانی ورن بفنا نے کہا کہ ’’سونے کی قیمتوں میں یہ کمی عالمی سطح پر منافع کے حصول کے رجحان کا نتیجہ ہے، جو مسلسل کئی ہفتوں تک بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بعد دیکھی گئی۔‘‘
لیالی جیولری کے منیجنگ ڈائریکٹر انوراگ سنہا کے مطابق، ’’اگر کسی خریدار نے دیوالی پر 10 گرام سونا خریدا تو اس نے 5,250 درہم ادا کیے، جو اب 4,950 درہم میں دستیاب ہے۔‘‘ ان کے مطابق، عام خریداروں کو فی 10 گرام سونا پر سینکڑوں درہم کے ’’کاغذی نقصان‘‘ کا سامنا ہے، جس میں ڈیزائن یا بنانے کے چارجز شامل نہیں۔
Gold prices plunge after Diwali; UAE buyers face losses worth thousands of dirhams






