متحدہ عرب امارات

دبئی: پاکستانی بزنس مین پر امریکہ میں 650 ملین ڈالر کے ہیلتھ کیئر فراڈ میں ملوث ہونے کا الزام، دبئی میں لگژری ولا خریدنے کا انکشاف

خلیج اردو
دبئی: ایک پاکستانی بزنس مین جس نے دبئی میں گولف اسٹیٹ پر 1 کروڑ 6 لاکھ درہم مالیت کا ولا خریدا، امریکہ کی تاریخ کے سب سے بڑے ہیلتھ کیئر فراڈ میں مرکزی کردار کے طور پر ابھرا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، یہ اسکیم 650 ملین ڈالر پر مشتمل تھی اور اسے ریاست ایریزونا کے کم از کم 41 منشیات بحالی مراکز (کلینکس) کے ذریعے انجام دیا گیا۔

امریکی اٹارنی آفس ایریزونا کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، 41 سالہ پاکستانی بزنس مین پر ہیلتھ کیئر فراڈ، وائر فراڈ، اور منی لانڈرنگ کی سازش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ قانونی وجوہات کی بناء پر ان کا نام فی الحال ظاہر نہیں کیا جا رہا۔

فراڈ کی نوعیت

امریکی پراسیکیوٹرز کے مطابق، ملزم ProMD Solutions نامی ایک پاکستان میں قائم کمپنی کا مالک ہے، جو امریکہ میں آؤٹ پیشنٹ علاج گاہوں کو میڈیکل کوڈنگ، بلنگ اور دیگر انتظامی خدمات فراہم کرتی تھی۔ ان مراکز کو نشہ کی لت سے نجات کے علاج کے طور پر رجسٹر کیا گیا تھا، مگر بیشتر خدمات یا تو فراہم ہی نہیں کی گئیں، یا غلط طور پر بل کی گئیں، یا پھر معیار اتنا ناقص تھا کہ ان کی طبی حیثیت ہی مشکوک تھی۔

بے گھر افراد اور قبائلی باشندوں کا استعمال

تحقیقات کے مطابق، بے گھر افراد اور امریکی قبائلی باشندوں کو کلینکس تک لایا گیا تاکہ دعووں کی تعداد بڑھائی جا سکے۔ ان کلینکس نے ایریزونا کے میڈیکیڈ پروگرام (AHCCCS) کے تحت 650 ملین ڈالر کے جھوٹے بل جمع کروائے، جن میں سے 564 ملین ڈالر کی ادائیگیاں ہوئیں۔

جعل سازی کے طریقے

جعلی بلنگ کی توثیق کے لیے جھوٹے تھراپی نوٹس اور طبی ریکارڈ تیار کیے گئے، جنہیں بعد ازاں آڈٹ کے دوران دھوکہ دہی کے لیے استعمال کیا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے اس اسکیم سے ذاتی طور پر 24.5 ملین ڈالر حاصل کیے، جن میں سے 2.9 ملین ڈالر (تقریباً 1 کروڑ 6 لاکھ درہم) دبئی میں ولا خریدنے پر خرچ کیے گئے۔

امریکی حکام کا مؤقف

امریکی محکمہ انصاف کے مجرمانہ شعبے کے سربراہ میتھیو گیلوٹی نے کہا:
"یہ صرف کسی اور کے پیسے چوری نہیں کیے گئے بلکہ یہ امریکی عوام کی جیب سے لیا گیا پیسہ ہے، جو ان پروگراموں کو اپنی محنت کی کمائی سے چلاتے ہیں۔”

یہ الزامات امریکہ بھر میں 15 ارب ڈالر سے زائد کے ہیلتھ کیئر فراڈ کو بے نقاب کرنے والے تاریخ کے سب سے بڑے وفاقی کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں۔ صرف ایریزونا میں سات افراد کے خلاف مختلف کیسز میں فرد جرم عائد کی گئی، جن میں پاکستانی ملزم کا کیس بھی شامل ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button