خلیج اردو آن لائن:
دبئی میں دبئی کی عدالت نے ایک بینک کو اس کے ایک صارف کے ساتھ سم کارڈ کی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والے فراڈ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے بینک کو حکم دیا ہے کہ وہ صارف کو 5 اشاریہ 6 ملین درہم معاؤضہ ادا کرے۔
عدالت کا یہ فیصلہ اب آئندہ ایسے کیسوں کے لیے ایک ںظیر کے طور پر دیکھا جائے گا۔
2019 میں دبئی کمرشل کورٹ نے بینک کے خلاف یہ فیصلہ سنایا تھا، جس کے بعد بینک نے اس فیصلے کے خلاف دبئی کورٹ آف اپیل میں دائر کی تھی۔
لیکن دبئی کورٹ آف اپیل نے بھی بینک کو صارف کے 4 اشاریہ 7 ملین درہم نقصان کا ذمہ دار قرار دیا۔ جس کے بعد بینک نے گزشتہ ماہ عمل درآمد جج کے ذریعے صارف کو 5 اشاریہ 6 ملین معاوضہ ادا کیا، جس میں 1 لاکھ روپے اضافہ معاوضہ اور مقدمے کی شروعات کی تاریخ سے فیصلے تک دن تک کا سود بھی شامل ہے۔
برطانیہ کی ایک لاء فرم کے مشرق وسطٰی کے لیے قانونی چارہ جوئی کے سربراہ کا اس فیصلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ” اس حتمی فیصلے کے بعد ہم اب یو اے ای میں بینکنگ کے حوالے سے ایک نیا دور دیکھیں گے”۔
انکا مزید کہنا تھا کہ ” یہ فیصلہ بینک کی طرف سے اپنے صارفین کی معلومات کی حفاظت کی ذمہ داری کی نشاندہی کرتا ہے۔ اور بینک کی یہ ذمہ داری اس کے ملازمین کے افعال اور غلطیوں کا بھی احاطہ کرتی ہے”۔
Source: Gulf News







