
خلیج اردو
دبئی کی سول عدالت نے ایک عرب شہری کو خصوصی "غائب ہونے والی سیاہی” استعمال کرکے چیک جاری کرنے کا قصوروار قرار دیتے ہوئے 17 لاکھ درہم واپس کرنے، پانچ فیصد سالانہ قانونی سود ادا کرنے اور مدعی کو 30 ہزار درہم ہرجانہ دینے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملزم نے جان بوجھ کر ایسا چیک جاری کیا جس کی تحریر وقت گزرنے کے ساتھ تبدیل یا غائب ہو گئی، جس کے باعث بینک نے چیک کی ادائیگی سے انکار کر دیا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق مدعی نے ملزم کو 17 لاکھ درہم دیے تھے اور بطور ضمانت چیک حاصل کیا تھا۔ چیک بظاہر درست تھا، تاہم مقررہ تاریخ پر بینک میں پیش کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کی تفصیلات خصوصی تصحیحی مادے کے استعمال کے باعث تبدیل ہو چکی ہیں، جس سے چیک ناقابلِ قبول ہو گیا۔
مدعی نے بعد ازاں فوجداری مقدمہ دائر کیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ چیک جان بوجھ کر دھوکہ دہی کے طریقے سے تیار کیا گیا تاکہ اس کی رقم وصول نہ کی جا سکے۔
اس مقدمے میں فوجداری عدالت پہلے ہی ملزم کو ایک سال قید اور جرمانے کی سزا سنا چکی تھی، جبکہ اپیل میں بھی سزا برقرار رہی اور بعد ازاں فیصلہ حتمی ہو گیا۔
سول عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فوجداری عدالت کا حتمی فیصلہ جرم، اس کی نوعیت اور ملزم کی ذمہ داری کے حوالے سے سول عدالت پر لازم ہوتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزم نے بلاجواز مدعی کی رقم اپنے پاس رکھی، جس کے باعث مدعی برسوں تک اپنی رقم سے محروم رہا اور اسے طویل قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔
عدالت نے 17 لاکھ درہم کی واپسی، چیک کی مقررہ تاریخ سے ادائیگی تک پانچ فیصد سالانہ قانونی سود، 30 ہزار درہم ہرجانے کے علاوہ عدالتی اخراجات اور وکیل کی فیس بھی ملزم کے ذمے عائد کر دی۔







