
خلیج اردو
دبئی: دبئی عدالت نے میڈیکل غفلت کے ایک اہم کیس میں آدم وائیٹل اسپتال اور معالج کے خلاف فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے مریض کے حق میں ایک ملین درہم (10 لاکھ درہم) ہرجانے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے اسپتال اور ڈاکٹر کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی غفلت کے باعث مریض کو مستقل معذوری کا سامنا کرنا پڑا۔
مریض نے 20 دسمبر 2021 کو آدم وائیٹل اسپتال میں جوڑ کی تبدیلی (جوائنٹ ری پلیسمنٹ) کی سرجری کروائی تھی۔ آپریشن کے بعد اسے شدید درد اور ٹانگ حرکت دینے میں دشواری کا سامنا ہوا۔
بعد ازاں اصلاحی سرجری کے باوجود حالت بہتر نہ ہوئی، جس کے بعد مریض کو علاج کے لیے اٹلی جانا پڑا۔ اٹلی میں ماہر ڈاکٹروں نے متعدد آپریشن کیے تاکہ ٹانگ کو ممکنہ طور پر کٹنے سے بچایا جا سکے۔
اٹلی کے ڈاکٹروں کی رپورٹ کے مطابق مریض نے اپنی ٹانگ کی 80 فیصد کارکردگی کھو دی اور اب بھی شدید درد اور حرکت میں دشواری کا سامنا ہے۔ مریض اب بغیر سہارے کے چل نہیں سکتا، روزمرہ کے کام انجام نہیں دے سکتا اور مستقل علاج، بحالی اور خصوصی آلات پر انحصار کرتا ہے۔ اس کے خاندان پر بھی مالی اور ذہنی دباؤ بڑھ گیا ہے جو مسلسل دیکھ بھال کر رہا ہے۔
دسمبر 2023 میں سپریم کمیٹی برائے میڈیکل لائیبلٹی نے تحقیقات مکمل کر کے قرار دیا کہ معالج نے علاج میں سنگین غفلت کی اور طبی اصولوں کی خلاف ورزی کی، جس کے باعث مریض کی ٹانگ مستقل طور پر متاثر ہوئی۔
مریض نے 2 کروڑ درہم کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا جبکہ اسپتال نے علاج کے اخراجات کے طور پر 3 لاکھ 12 ہزار درہم کا جوابی دعویٰ کیا، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مریض کی بگڑتی حالت اسپتال کی غلطیوں کا نتیجہ تھی، نہ کہ مریض کی کسی کوتاہی کا۔
17 مارچ 2025 کو دبئی سول کورٹ نے مریض کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ایک ملین درہم ہرجانے کا حکم دیا۔ اسپتال اور ڈاکٹر نے فیصلے کے خلاف اپیل کی، تاہم دبئی کورٹ آف کیسیشن نے اکتوبر میں ان اپیلوں کو خارج کرتے ہوئے فیصلہ برقرار رکھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کمیٹی برائے میڈیکل لائیبلٹی کی رپورٹ حتمی ہے اور عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ جسمانی نقصان، مستقل معذوری اور نفسیاتی اذیت کے لحاظ سے مناسب معاوضہ طے کرے۔ عدالت نے اسپتال اور ڈاکٹر کو قانونی اخراجات بھی ادا کرنے کا حکم دیا۔







