
خلیج اردو
دبئی: کاروبار شروع کرنے سے زیادہ دلچسپ کیا ہو سکتا ہے؟ شاید یہ کہ آپ یہ کام اپنی بہترین دوست کے ساتھ کریں۔ یہی حقیقت بنی مہرین عمر اور منیٰ مصطفیٰ کے لیے، جنہوں نے مل کر دبئی میں سپر کلب (Supper Club) قائم کیا اور بعد میں کئی نئے منصوبوں میں قدم رکھا۔
دونوں کی ملاقات کارپوریٹ دنیا میں ہوئی تھی، جہاں انہوں نے ایک دوسرے میں اپنی صلاحیتوں کو پہچانا اور جلد ہی یہ احساس ہوا کہ وہ بطور ٹیم کمال کا کام کر سکتی ہیں۔ مہرین کا کہنا ہے کہ منیٰ کے اعتماد اور انداز نے پہلے ہی دن بتا دیا تھا کہ یہ ایک منفرد پارٹنر ثابت ہوگی۔ وقت کے ساتھ دونوں نے نہ صرف ریکارڈ قائم کیے بلکہ ایک دوسرے پر اعتماد اور دوستی کو بنیاد بنا کر بزنس پارٹنرشپ کو مضبوط کیا۔
ان کی پہلی مشترکہ کوشش ’’نو کیو (NoQ – Why Wait)‘‘ تھی، جو کافی کے شوقین افراد کے لیے ایک ایپ تھی تاکہ وہ پہلے سے آرڈر دے کر بغیر انتظار کے کافی حاصل کر سکیں۔ لیکن یہ منصوبہ آپریشنل سطح پر اتنا بھاری تھا کہ جلد ہی مشکلات بڑھنے لگیں۔ مہرین کے مطابق وہ ہر چیز خود کرنے کی ضد میں bottlenecks پیدا کر بیٹھیں، جس سے نہ صرف سرمایہ ختم ہوا بلکہ ذہنی دباؤ بھی بڑھ گیا۔ بالآخر یہ کاروبار بند کرنا پڑا۔
اگرچہ یہ ناکامی مایوس کن تھی لیکن دونوں خواتین نے ہمت نہ ہاری۔ انہوں نے سیکھا کہ اسٹارٹ اپس میں ہر چیز خود کرنے کے بجائے delegation ضروری ہے اور کمال پرستی اکثر ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔
مہرین اور منیٰ کا کہنا ہے کہ ان کے جذبے اور باہمی بھروسے نے انہیں بار بار نئے سرے سے آگے بڑھنے کی ہمت دی۔ آج وہ نہ صرف خواتین انٹرپرینیورز کے لیے مثال ہیں بلکہ یہ بھی ثابت کر رہی ہیں کہ دوستوں کی دوستی جب کاروبار میں ڈھلتی ہے تو کامیابی کا نیا نسخہ بن جاتی ہے۔







