
خلیج اردو
دبئی – 30 جون 2025ء
دبئی میں ایک برطانوی خاتون جیسیکا مڈی نے انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آٹھ غیر قانونی غیر ملکی ورکرز کی مدد کی، جن کے پاسپورٹ ایک مقامی آجر نے ضبط کر رکھے تھے۔ ان ملازمین کو اب دبئی میں غیر قانونی قیام کے باعث مجموعی طور پر 81 ہزار درہم سے زائد جرمانوں کا سامنا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب فلپائنی گھریلو ملازمہ نورسل، جنہیں جیسیکا نے ایک معروف کلیننگ پلیٹ فارم Justlife کے ذریعے وقتاً فوقتاً بلایا تھا، 9 اپریل کو زخمی حالت میں ان کے گھر پہنچی۔ جیسیکا نے دریافت کیا کہ نورسل کے پاس نہ تو ورک ویزا تھا اور نہ ہی صحت انشورنس، جس پر انہوں نے فوراً معاملے کی چھان بین شروع کی۔
نورسل نے بتایا کہ وہ چار ماہ سے مذکورہ ایجنٹ N.E. کے تحت کام کر رہی تھیں، جنہوں نے ان کا پاسپورٹ لے کر ویزے کا وعدہ کیا مگر کوئی کارروائی نہیں کی۔ جب جیسیکا نے N.E. سے رابطہ کیا تو وہ نہ صرف جھگڑا کرنے لگے بلکہ غیر اخلاقی زبان بھی استعمال کی۔
جیسیکا نورسل کو لے کر البرشاء پولیس اسٹیشن گئیں جہاں سے انہیں N.E. کے دفتر جانے کا کہا گیا۔ وہاں پہنچنے پر مزید سات خواتین ورکرز بھی جمع ہو گئیں، جن کے مطابق وہ بھی ویزا کے بغیر کام کر رہی تھیں اور ان کے پاسپورٹ ضبط کیے جا چکے تھے۔ پولیس کی مداخلت پر آخر کار N.E. نے پاسپورٹس سیکیورٹی کے حوالے کر دیے۔
اگرچہ ملازمین کو ان کے دستاویزات واپس مل گئے، مگر ان پر 81,450 درہم کے ویزا جرمانے عائد ہیں۔ جیسیکا اب ان کی قانونی حیثیت بحال کرنے اور جرمانے معاف کرانے کے لیے وکلاء سے مشاورت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ان ملازمین کے لیے ایک نیا، باقاعدہ کلیننگ بزنس شروع کرنا چاہتی ہیں، لیکن جب تک ان کے جرمانے معاف نہیں ہوتے، وہ انہیں ملازمت نہیں دے سکتیں۔
ایجنسی کا ردعمل
Justlife نے اپنے پلیٹ فارم پر درج ایجنسی کی اندرونی جانچ پڑتال کے بعد اسے معطل کر دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم پر موجود ہر ایجنسی سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانونی ورک پرمٹ اور ایمریٹس آئی ڈی کے حامل ورکرز ہی بھیجیں، اور خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
قانونی پہلو
دبئی میں سینئر قانونی مشیر حسام زکریا کے مطابق، فیڈرل ڈگری لا نمبر 9 (2022) کے تحت گھریلو ملازمین کے لیے کام کا اجازت نامہ ہونا لازمی ہے اور پاسپورٹ ضبط کرنا، ویزا نہ دینا اور تنخواہ نہ دینا تمام قابلِ سزا جرائم ہیں۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 20,000 درہم تک جرمانہ اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
جرمانوں میں چھوٹ کا امکان
قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی کیس میں استحصال ثابت ہو جائے تو عدالت جرمانے معاف کر سکتی ہے، تاہم اس کے لیے ہر کیس کا انفرادی جائزہ لیا جاتا ہے۔ 2024 کی ایمنسٹی اسکیم میں بھی کئی ورکرز شامل ہو سکتے تھے، مگر N.E. کی جانب سے تاخیر اور دھوکہ دہی کی وجہ سے وہ موقع ضائع ہو گیا۔
برطانوی رہائشی جیسیکا نے امید ظاہر کی ہے کہ حکام اس معاملے کو انسانی بنیادوں پر دیکھتے ہوئے ان غیر قانونی ورکرز کو نیا موقع دیں گے تاکہ وہ باعزت طریقے سے زندگی گزار سکیں۔







