خلیج اردو آن لائن:
دبئی میں پاکستانی باشندے پر 11 سالہ بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
دبئی کی ابتدائی عدالت کو بتایا گیا متاثرہ بچے کے والدین کی جانب سے پولیس کو رپورٹ درج کروانے سے پہلے 37 سالہ پاکستانی باشندے نے 11 سالہ بچے کو کئی بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
متاثرہ پاکستانی بچے نے گواہی دی ہے کہ وہ الرفاع کے علاقے میں ایک سپر مارکیٹ میں گیا تو وہاں اسے پاکستانی مدعاعلیہ نے بتایا کہ وہ اسے تب سے جانتا ہےجب وہ ابھی چھوٹا بچہ تھا اور اس نے اسے ایک طویل عرصے سے نہیں دیکھا۔
سرکاری ریکارڈ کےمطابق متاثرہ طالب علم نے بتایا کہ” مدعاعلیہ نے مجھے کہا وہ اس کی جگہ پر خریداری کے پیسے ادا کرے گا، اور اس نے میرا موبائل نمبر بھی مانگا۔ لیکن جب اس نے میرے ساتھ جنسی چھیڑ چھاڑ کی تو مجھے بہت حیرانی ہوئی”۔
مدعاعلیہ نے متاثرہ بچے کی پیٹھ کو تین بار چھوا، جس پر بچہ بھاگ کر اپنی ماں کے پاس گیا اور اس واقعہ کے بارے میں بتایا۔ جس پر اس کی ماں نے اسے مدعاعلیہ سے دور رہنے کا کہا۔
مزید برآں، اس واقعہ کے ایک ہفتے بعد بچے کو اس کے گھر والوں نے قریبی ہوٹل سے ناشتہ لانے کے لیے کہا۔ جب بچہ اپنے گھر سے باہر نکلا تو مدعاعلیہ اس کے گھر کے باہر کھڑا تھا، مدعاعلیہ نے اسے دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔
تاہم، متاثرہ بچہ مدعاعلیہ کو دیکھ کر واپس گھر کے اندر چلا گیا اور دس منٹ بعد واپس باہر آیا تو مدعاعلیہ ابھی تک اس کے گھر کے باہر کھڑا تھا۔ جس کے بعد متاثرہ طالب علم نے اپنی رہائشی عمارت کے ایک اور رہائشی کو واقعے کے بارے میں بتایا اور اس نے بچے کے باپ کو اس بارے میں مطلع کردیا۔
ریکارڈ کے مطابق بھارتی رہائشی نے واقعہ کے بارے میں پتہ چلنےکے بعد مدعاعلیہ کی تصویر کھینچ کر بچے کے ایک رشتہ دار کو بھیج دی۔ بھارتی رہائشی نے بتایا کہ ” میں دو گھنٹے بعد پھر سے مدعاعلیہ کو دیکھا اور پھر متاثرہ بچے کے رشتہ دار نے مدعاعلیہ کو پکڑ لیا اور دبئی پولیس کو اطلاع کر دی”۔
دبئی پبلک پراسیکیوشن پاکستانی مدعاعلیہ پر 11 سالہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام عائد کر دیا ہے۔ تاہم، مقدمے کا فیصلہ 19 اکتوبر کو متوقع ہے۔
Source: Gulf News







