
خلیج اردو
دبئی جیولری گروپ کے مطابق پیر کی شام 24 قیراط سونا 422.25 درہم فی گرام کی سطح پر پہنچ گیا جو اس سے قبل 420 درہم کا بلند ترین ریکارڈ توڑ چکا ہے۔ دیگر ریٹ میں 22 قیراط 391.25 درہم، 21 قیراط 375 درہم اور 18 قیراط 321.25 درہم فی گرام پر ٹریڈ ہوا۔
اسپاٹ گولڈ منگل کی صبح 1.39 فیصد اضافے کے ساتھ 3,495.79 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوا۔ سونے کی بڑھتی قیمتوں نے صارفین اور تاجروں کو اس بات پر مخمصے میں ڈال دیا ہے کہ آیا سرمایہ کاری کو برقرار رکھا جائے، فروخت کیا جائے یا مزید خریداری کی جائے۔
متحدہ عرب امارات میں ایشیائی برادری بالخصوص سکوں، بار اور زیورات کی شکل میں سونا خریدنے کو ترجیح دیتی ہے جو نہ صرف ثقافتی بلکہ معاشی اور عملی طور پر بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ سونے کو محفوظ سرمایہ کاری اور نسلاً بعد نسل دولت محفوظ رکھنے کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ چند سالوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں مرکزی بینکوں کی خریداری، شرح سود میں کمی، عالمی جغرافیائی کشیدگیاں اور تجارتی تنازعات شامل ہیں۔ اگر یہی عوامل برقرار رہے تو دبئی سمیت دنیا بھر میں سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ایکس ایس ڈاٹ کام کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار سامر حسن کا کہنا ہے کہ فی الوقت سب سے بڑا محرک یہ ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ستمبر میں شرح سود میں کمی کرے، جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے حد سے زیادہ جوش اب کمزور پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام عوامل نے سرمایہ کاروں کو سونے کی طرف راغب کیا ہے تاکہ وہ مالی اور ایکویٹی مارکیٹ کے خطرات سے بچ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اس ہفتے روزگار سے متعلق ڈیٹا اہمیت کا حامل ہے، کمزور رپورٹ ڈالر کو مزید دباؤ میں ڈالے گی اور شرح سود میں کٹوتی کے امکانات کو مزید بڑھائے گی جبکہ مضبوط اعداد و شمار اس رجحان کو کمزور کر سکتے ہیں۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق سونا تاریخی طور پر جیکسن ہول اکنامک سمپوزیم کے دوران مالیاتی پالیسی کے اعلانات پر حساس ردعمل ظاہر کرتا ہے اور اس سال بھی یہی صورتحال نظر آ رہی ہے۔







