
خلیج اردو
موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سال 2026 کے دوران متحدہ عرب امارات اور خلیجی خطے میں معمول سے زیادہ گرم موسمِ گرما دیکھنے میں آ سکتا ہے، جبکہ بحرالکاہل میں ممکنہ طور پر طاقتور ایل نینو کے ابھرنے کے امکانات نے عالمی موسمیاتی اداروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
ماہرین کے مطابق ابتدائی موسمیاتی اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ امارات اور خلیجی خطے میں درجہ حرارت موسمی اوسط کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ان رجحانات کو عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ایل نینو کی ممکنہ تشکیل سے بھی جوڑا جا رہا ہے، جو دنیا بھر میں درجہ حرارت اور بارشوں کے نظام پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی رجحان ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سطحی سمندری پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ یہ عمل امارات سے ہزاروں کلومیٹر دور رونما ہوتا ہے، تاہم اس کے اثرات عالمی فضائی گردش اور موسمی نظاموں کو متاثر کر کے مختلف خطوں کے موسم میں نمایاں تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔
موسمیاتی ریکارڈ کے مطابق 1997-98 اور 2015-16 کے ایل نینو واقعات تاریخ کے طاقتور ترین واقعات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان ادوار میں سمندری سطح کے درجہ حرارت میں بالترتیب تقریباً 2.3 اور 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں شدید موسمی بے ترتیبی دیکھی گئی۔
حالیہ موسمیاتی ماڈلز کے مطابق اگست سے دسمبر 2026 کے درمیان ایل نینو مزید طاقتور ہو سکتا ہے۔ بعض اندازوں میں سمندری درجہ حرارت کے انحراف کو 3 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ دکھایا گیا ہے، جس کی صورت میں اسے "سپر ایل نینو” قرار دیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ یہ پیش گوئیاں ابھی حتمی نہیں ہیں، تاہم مختلف عالمی موسمیاتی مراکز بحرالکاہل کے درجہ حرارت اور فضائی تبدیلیوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ ممکنہ اثرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
متحدہ عرب امارات میں ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ موسمیاتی رجحان بارشوں اور درجہ حرارت کے موسمی پیٹرن پر اثر ڈال سکتا ہے یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل نینو براہِ راست امارات میں گرمی کا سبب نہیں بنتا، لیکن یہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے پس منظر کو مزید تقویت دے سکتا ہے، جس سے شدید گرمی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایل نینو بارشوں میں اضافے کی ضمانت نہیں دیتا۔ بعض اوقات یہ زیادہ بارشوں کا سبب بنتا ہے جبکہ بعض صورتوں میں خشک موسم اور موسمی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ اس لیے امارات پر اس کے ممکنہ اثرات کا انحصار عالمی اور علاقائی موسمی نظاموں کے باہمی تعامل پر ہوگا۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ ایل نینو کی شدت اور اس کے حتمی اثرات کے بارے میں فیصلہ کن رائے دینا ابھی قبل از وقت ہے، کیونکہ آنے والے مہینوں میں موسمیاتی صورتحال مزید واضح ہوگی۔
یہ پیش رفت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ عالمی موسمیاتی رجحانات اب خلیجی ممالک سمیت دنیا کے مختلف خطوں کے موسم پر پہلے سے کہیں زیادہ اثر انداز ہو رہے ہیں۔







