
خلیج اردو
دبئی:دبئی میں آٹھ سالہ آٹزم کی مریضہ افغان بچی کے مبینہ قتل کے واقعے نے ہر دل کو دہلا دیا ہے۔ پولیس کے مطابق بچی کو اس کی دادی نے اس کے ہی کپڑے سے گلا گھونٹ کر ہلاک کیا، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچی کو لباس تبدیل کروایا جا رہا تھا۔
بچی کے والد، جو ایک مسجد کے امام ہیں، نے پولیس کو بتایا کہ واقعے کے وقت وہ گھر سے کچھ دیر کے لیے باہر گئے تھے۔ واپسی پر انہوں نے اپنی بیٹی کو بے حس و حرکت پایا اور فوری ایمبولینس بلائی، تاہم طبی عملے نے بچی کی موت کی تصدیق کی۔ بچی کی گردن پر گلا گھونٹنے کے واضح نشانات موجود تھے۔
پولیس تحقیقات میں معلوم ہوا کہ والدین نے اپنے والدین کو دبئی وزٹ ویزہ پر بلایا ہوا تھا۔ والد نے پولیس کو بتایا کہ بچی کی نگہداشت کے معاملے پر ان کی والدہ سے بحث ہوتی رہتی تھی، اسی لیے ان کا شبہ اپنی والدہ پر گیا۔
پولیس کی کرمنل انویسٹی گیشن ٹیم، فرانزک ماہرین اور پیٹرول ٹیموں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ دادی، جنہیں ابتدائی شناخت N.K.S. کے نام سے کی گئی ہے، آخری فرد تھیں جنہوں نے بچی کو زندہ دیکھا تھا۔ بعد ازاں دادی نے جرم کا اعتراف کر لیا، ان کا کہنا تھا کہ وہ بچی کی بیماری سے تنگ آ چکی تھیں اور اپنے بیٹے اور بہو کو اس ذمہ داری سے آزاد کرنا چاہتی تھیں۔
خاندان نے بچی کو علاج کے لیے بھارت لے جانے کا منصوبہ بھی بنایا تھا۔
ملزمہ کو مزید قانونی کارروائی کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ حکام کیس کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ کمیونٹی میں شدید صدمے اور غم و غصے کا باعث بنا ہے اور خصوصی ضروریات کے بچوں کی نگہداشت کے حوالے سے خاندانوں کو درپیش دباؤ پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔







