متحدہ عرب امارات

دبئی: ٹوکنائزڈ جائیدادوں میں بھارتی، اماراتی اور پاکستانی سرمایہ کاروں کی برتری

خلیج اردو
دبئی میں مشرق وسطیٰ کے پہلے جائیداد ٹوکنائزیشن پلیٹ فارم "پرائپکو منٹ” کے ذریعے ایک ماہ کے دوران 90 لاکھ درہم سے زائد مالیت کے معاہدے طے پا چکے ہیں، جن میں بھارتی، اماراتی اور پاکستانی سرمایہ کار سرمایہ کاری کے لحاظ سے سر فہرست رہے۔

پلیٹ فارم کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، کینیڈین، امریکی اور برطانوی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات میں مقیم 50 سے زائد قومیتوں کے افراد نے ٹوکنائزڈ منصوبوں میں سرمایہ کاری کی۔ پرائپکو پر درج جائیدادیں صرف چند منٹوں میں مکمل طور پر فنڈ ہو رہی ہیں، ہر جائیداد کی اوسط فنڈنگ کا وقت صرف تین منٹ ریکارڈ کیا گیا۔

پرائپکو کی بانی اور سی ای او امیرہ سجاوانی نے کہا کہ جائیدادوں کی ٹوکنائزیشن کے آغاز کے صرف ایک ماہ کے اندر اتنی بڑی طلب اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مارکیٹ کس تیزی سے اس جدید ماڈل کی طرف راغب ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کار اب زیادہ لچک، شفافیت، اور کم لاگت میں مہنگی جائیدادوں میں حصہ لینے کے مواقع چاہتے ہیں۔

حالیہ کامیاب منصوبوں میں "صوبہ کریک وسٹاز گرانڈے” اور "لِو ریزیڈنس دبئی مرینا” کے دو اپارٹمنٹس شامل ہیں۔ "صوبہ کریک” میں موجود اپارٹمنٹ کو صرف 10 منٹ میں 213 سرمایہ کاروں نے مکمل فنڈ کیا جن کا تعلق 38 مختلف قومیتوں سے تھا، جبکہ "لِو ریزیڈنس” کو صرف 3 منٹ میں 258 سرمایہ کاروں نے فنڈ کیا، جن کا تعلق 47 قومیتوں سے تھا۔ دونوں میں اوسط سرمایہ کاری بالترتیب 7,512 اور 7,210 درہم رہی۔

مارچ میں دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ نے "ریئل اسٹیٹ ٹوکنائزیشن پروجیکٹ” کا پائلٹ مرحلہ دبئی ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (ویرا) اور دبئی فیوچر فاؤنڈیشن (ڈی ایف ایف) کے ساتھ "سینڈباکس ریئل اسٹیٹ” کے ذریعے شروع کیا تھا۔

ریئل اسٹیٹ ٹوکنائزیشن کا مطلب جائیداد کو ڈیجیٹل ٹوکنز میں تبدیل کرنا ہے، جہاں ہر اثاثہ سرمایہ کار کی مالی حکمت عملی اور بجٹ کے مطابق حصوں میں تقسیم ہوتا ہے، جو انہیں مکمل جائیداد خریدے بغیر اس کا جزوی مالک بننے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ ماڈل روایتی کراؤڈ فنڈنگ سے مختلف اور زیادہ مربوط سمجھا جا رہا ہے۔

دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے اندازے کے مطابق 2033 تک دبئی کی ٹوکنائزڈ جائیدادوں کی مارکیٹ 60 ارب درہم تک پہنچ جائے گی، جو اس وقت کی کل جائیداد لین دین کا تقریباً سات فیصد ہو گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button