
خلیج اردو
دبئی: دبئی بلدیہ نے امارت کے مختلف علاقوں میں رہائشی عمارتوں میں غیر قانونی طور پر بنائی گئی پارٹیشنز کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ اور سول ڈیفنس کے ساتھ مل کر بلدیہ نے کئی کثیر المنزلہ عمارتوں کی فیلڈ انسپیکشن مہم شروع کی ہے، جس کا مقصد رہائشی یونٹس میں کی گئی غیر منظور شدہ تبدیلیوں کو ہٹانا اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
بیان کے مطابق، یہ مہم خاص طور پر ان علاقوں میں جاری ہے جہاں آبادی زیادہ گھنی ہے، جن میں الریگہ، المرقبات، البرشاء، السطوہ اور الرفاع شامل ہیں۔ دبئی بلدیہ نے بتایا کہ ان کارروائیوں سے قبل عمارت مالکان کو باضابطہ طور پر خطوط کے ذریعے آگاہ کیا گیا تھا کہ وہ عمارتوں میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی ساختی تبدیلیاں یا پارٹیشنز نہ کریں۔
دبئی میں کسی بھی اپارٹمنٹ یا یونٹ میں تبدیلی یا پارٹیشن کرنے کے لیے کرایہ دار اور مالک دونوں کو متعلقہ اداروں سے پیشگی منظوری لینا لازم ہے۔
اگرچہ کم آمدنی والے رہائشیوں کے لیے پارٹیشن شدہ کمرے کرایہ پر لینا ایک سستی رہائش کا ذریعہ ہیں، جن کے کرائے کئی ویب سائٹس پر 600 درہم ماہانہ سے شروع ہوتے ہیں، لیکن بلدیہ کے مطابق یہ عمل قوانین کی خلاف ورزی ہے اور رہائشیوں کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ بنتا ہے۔
بلدیہ نے کہا کہ ان غیر قانونی ترمیمات سے آگ لگنے جیسے سنگین حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور ہنگامی صورتحال میں بروقت انخلا میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ مہم کا مقصد ایسے ہی خطرناک حالات کی روک تھام اور عمارتوں کے اندر کسی بھی قسم کی غیر منظور شدہ تبدیلی کے مضر اثرات سے عوام کو آگاہ کرنا ہے۔
یہ مہم دبئی بلدیہ کے اُس طویل المدتی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت رہائشی عمارتوں میں اعلیٰ ترین حفاظتی معیار کو یقینی بنانا اور عوامی انفراسٹرکچر کی مؤثر دیکھ بھال کو فروغ دینا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس اقدام سے غیر منظم سب لیٹنگ اور منفی ہاؤسنگ رجحانات کی روک تھام بھی کی جا رہی ہے۔







