
خلیج اردو
اتر پردیش/نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں جاری ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران بھارت کے ایک چھوٹے سے گاؤں "کنٹور” نے غیر متوقع طور پر عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس گاؤں کو ایران کے بانی رہنما اور پہلے سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی کے آبائی مقام کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔
کنٹور، بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی میں واقع ہے اور تاریخی طور پر آیت اللہ خمینی کے دادا، سید احمد موسوی ہندی کا جائے پیدائش مانا جاتا ہے۔ معروف بی بی سی صحافی اور مصنف باقر معین نے اپنی 1999 کی کتاب "Khomeini: Life of the Ayatollah” میں اس خاندان کی تفصیلات درج کی ہیں، جو موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں دوبارہ منظر عام پر آ رہی ہیں۔
کتاب کے مطابق سید احمد موسوی ہندی ایک شیعہ عالم تھے جو 1800 کی دہائی میں کنٹور میں پیدا ہوئے۔ ان کے آباؤ اجداد ایران سے ہجرت کر کے بھارت آئے تھے۔ 1830 میں انہوں نے برطانوی راج کے دوران ہندوستان چھوڑا اور عراق کے شہر نجف روانہ ہوئے جہاں انہوں نے امام علی کے مزار کی زیارت کی۔ بعد ازاں وہ ایران کے شہر خمین منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے رہائش اختیار کی، شادی کی اور نسل آگے بڑھائی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایرانی تاریخی ریکارڈز میں آج بھی ان کے نام کے ساتھ "ہندی” کا لقب موجود ہے، جو ان کی بھارتی شناخت کی علامت ہے۔
آیت اللہ خمینی 1902 میں پیدا ہوئے، اور انہوں نے اپنے دادا کی تعلیمات اور نظریات کو اپنا مشن بنایا۔ 1960 اور 70 کی دہائی میں وہ شاہ ایران، محمد رضا پہلوی کی مغرب نواز بادشاہت کے خلاف اُبھرے اور جلد ہی عوامی حمایت حاصل کر کے 1979 کے اسلامی انقلاب کی قیادت کی۔
اسلامی انقلاب کے بعد خمینی ایران کے پہلے سپریم لیڈر بنے اور ملک میں ایک نیا مذہبی و سیاسی نظام نافذ ہوا، جس نے مغرب مخالف حکمت عملی اپنائی۔
کنٹور کا ذکر ایسے وقت میں دوبارہ نمایاں ہوا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تازہ جھڑپوں اور علاقائی کشیدگی نے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر کی جڑیں بھارت سے وابستہ ہونے کا انکشاف کئی حلقوں میں حیرت اور دلچسپی کا باعث بنا ہے۔






