
خلیج اردو
اتحاد ریل کے مسافر ٹرین کے اندر ایک خصوصی پریس ٹور کے دوران فجیرہ سے شروع ہونے والا سفر نہ صرف جدید ٹرانسپورٹ کا تجربہ تھا بلکہ قدرتی مناظر کا ایک یادگار نظارہ بھی پیش کرتا ہے۔
فجیرہ کے اسٹیشن سے روانگی کے بعد ٹرین حجر پہاڑ کے درمیان سے گزرتی ہے، جہاں مسافر کھڑکی سے باہر پھیلے ہوئے پہاڑی سلسلوں، وادیوں اور شہر کے مناظر کو باآسانی دیکھ سکتے ہیں۔ بعض مقامات پر پہاڑ اتنے قریب محسوس ہوتے ہیں کہ یوں لگتا ہے جیسے انہیں چھوا جا سکتا ہو۔
ٹرین کے اندر ماحول انتہائی پُرسکون اور جدید سہولیات سے آراستہ ہے۔ مسافروں کو دو کلاسز—“کمفرٹ” اور “پریمیم”—کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جہاں ہر بوگی کو جدید انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے۔ نشستوں کے ساتھ چارجنگ پورٹس، سامان رکھنے کی جگہ اور آرام دہ ہینڈ ریسٹس موجود ہیں۔
ٹرین کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، تاہم اندرونی ماحول میں سکون برقرار رہتا ہے۔ ہر بوگی میں واضح اعلان سسٹم موجود ہے جو عربی اور انگریزی زبان میں مسافروں کو ہدایات فراہم کرتا ہے، بالکل دبئی میٹرو کی طرز پر۔
پریمیم کلاس میں زیادہ کشادہ اور ری کلائننگ نشستیں موجود ہیں، جبکہ کمفرٹ کلاس میں بھی آرام دہ سیٹنگ اور گروپ نشستوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ مسافروں کے لیے خصوصی لگیج اسپیس، کھڑکیوں پر پردے اور معذور و بزرگ افراد کے لیے مخصوص نشستیں بھی رکھی گئی ہیں۔
سفر کے دوران ٹرین کئی سرنگوں سے گزرتی ہے، جہاں واضح حفاظتی اشارے اور ہدایات نصب ہیں۔ ہر بوگی میں ایمرجنسی سسٹم اور ایگزٹ ونڈوز بھی موجود ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری رہنمائی حاصل کی جا سکے۔
ٹرین کے اندر عملے کے لیے ایک علیحدہ جگہ بھی موجود ہے جہاں مسافروں کے لیے مشروبات اور ہلکے اسنیکس کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
اتحاد ریل کی کمرشل ایگزیکٹو ڈائریکٹر ادرا المانصوری نے کہا کہ اس منصوبے میں سب سے زیادہ توجہ آپریشنل تیاری اور حفاظت پر دی جا رہی ہے تاکہ مسافروں کو ایک محفوظ اور قابل اعتماد سفر فراہم کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ متحدہ عرب امارات میں سفر کے انداز کو بدل دے گا، جہاں لوگ نہ صرف تیز رفتار بلکہ قدرتی مناظر سے بھرپور ایک جدید ریلوے تجربہ حاصل کریں گے۔







