متحدہ عرب امارات

بھارت میں ڈیوٹی بڑھنے کے بعد کیا این آر آئیز یو اے ای سے سونا بغیر ڈیوٹی لا سکتے ہیں؟ اہم وضاحت سامنے آ گئی

خلیج اردو
بھارت کی جانب سے سونے کی درآمدی ڈیوٹی 6 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کے بعد متحدہ عرب امارات سے سونے کی خریداری اور اس کی منتقلی سے متعلق سوالات میں اضافہ ہو گیا ہے، خاص طور پر اوورسیز انڈینز (این آر آئیز) اور مسافروں کے حوالے سے۔

دبئی کے جیولرز کے مطابق بھارت میں داخل ہونے والے این آر آئیز اور مسافروں کو سونا لے جانے کی اجازت ہے، تاہم یہ مکمل طور پر ڈیکلریشن اور کسٹمز ڈیوٹی کے قوانین کے تابع ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سونا “ڈیوٹی فری” نہیں ہوگا بلکہ مقررہ ٹیکس ادا کرنا لازمی ہوگا۔

رمیش کلیانرامن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے واضح کیا کہ این آر آئیز اور بھارتی شہری سونے کے سکے اور بارز لے جا سکتے ہیں، لیکن انہیں بھارتی کسٹمز قوانین کے مطابق ڈیکلئر کرنا اور ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی۔

اسی طرح انیل ڈھانک نے بھی تصدیق کی کہ سونے کے سکے اور بارز لانے کی اجازت ہے، لیکن یہ ڈیوٹی فری جیولری الاؤنس میں شامل نہیں ہوتے اور ان پر الگ سے ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔

بھارتی کسٹمز قوانین 2026 کے مطابق بیرون ملک ایک سال سے زیادہ قیام کرنے والے مسافر مردوں کے لیے 20 گرام تک اور خواتین کے لیے 40 گرام تک سونا مخصوص حد کے ساتھ ڈیوٹی فری لا سکتے ہیں، جبکہ اس سے زیادہ مقدار پر ڈیوٹی عائد ہوگی۔

اعداد و شمار کے مطابق ورلڈ گولڈ کونسل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یو اے ای میں سونے کے سکے اور بارز کی طلب میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ قیمتوں میں فرق اور سرمایہ کاری کی دلچسپی ہے۔

ماہرین کے مطابق بھارت میں زیورات کی طلب میں کمی جبکہ بارز اور کوائنز میں سرمایہ کاری میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لوگ زیادہ تر اب سونے کو سرمایہ کاری کے طور پر خرید رہے ہیں، نہ کہ صرف زیورات کے طور پر۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں فرق، عالمی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاری کے بہتر مواقع کی تلاش کے باعث یہ رجحان آئندہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button