متحدہ عرب امارات

اگر ایران آبنائے ہرمز بند کر دے تو متحدہ عرب امارات اور دنیا پر کیا اثر پڑے گا؟

خلیج اردو
دبئی: ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک بڑا عالمی خطرہ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے — اگر ایران آبنائے ہرمز بند کر دے تو عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور خطے کی سلامتی پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت
ایران اور عمان کے درمیان 33 کلومیٹر طویل آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے اہم توانائی گزرگاہ ہے۔ 2024 میں روزانہ 2 کروڑ 10 لاکھ بیرل تیل اور گیس مصنوعات اس کے ذریعے منتقل ہوئیں، جو عالمی تیل کی کھپت کا 20 فیصد اور سمندری راستے سے ہونے والی تیل تجارت کا ایک چوتھائی ہے۔ قطر اور یو اے ای سے گیس کی برآمد کا بڑا حصہ بھی اسی راستے سے جاتا ہے۔

یو اے ای پر اثرات
متحدہ عرب امارات کے لیے آبنائے ہرمز تیل کی برآمدات کا مرکزی راستہ ہے، خاص طور پر چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ایشیائی ممالک کو جانے والی ترسیل۔ اگر ایران اس راستے کو بند کرتا ہے تو یو اے ای کی برآمدات متاثر ہوں گی۔

تاہم، ابو ظہبی نے "فجیرہ پائپ لائن” کے ذریعے 18 لاکھ بیرل یومیہ برآمد کرنے کا متبادل انتظام پہلے ہی کر رکھا ہے، جس سے کچھ حد تک تحفظ ممکن ہے۔ قلیل مدت میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے یو اے ای کو آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے، مگر طویل مدت کی بندش ترسیل میں رکاوٹ اور لاجسٹک اخراجات بڑھا دے گی۔

خلیجی ممالک پر اثرات
سعودی عرب روزانہ 60 لاکھ بیرل تیل آبنائے ہرمز سے برآمد کرتا ہے، لیکن اسے جزوی طور پر اپنے مشرق سے مغرب پائپ لائن کے ذریعے متبادل راستہ میسر ہے۔ قطر کی ایل این جی برآمدات متاثر ہوں گی، جبکہ کویت اور عراق کو محدود متبادل راستے ہونے کے باعث شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکہ اور یورپ پر اثرات
اگرچہ امریکہ کی صرف 5 فیصد تیل درآمدات آبنائے ہرمز سے ہوتی ہیں، مگر تیل کی قیمت میں اضافے سے امریکی عوام متاثر ہوں گے۔ برینٹ خام تیل اگر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جائے تو امریکہ میں فی گیلن پیٹرول کی قیمت 4 ڈالر سے بڑھ سکتی ہے، جو مہنگائی کو جنم دے گی۔

یورپ قطر سے 15 فیصد گیس درآمد کرتا ہے، اس لیے ہرمز کی بندش یورپی توانائی بحران کو مزید بدتر بنا دے گی، خاص طور پر روسی گیس کی کمی کے پس منظر میں۔

ایشیا پر مہلک اثرات
ایشیا کو سب سے زیادہ نقصان ہوگا، کیونکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 75 فیصد تیل کی منزل یہی خطہ ہے۔ چین اپنی 45 فیصد خام تیل کی ضروریات اسی راستے سے پوری کرتا ہے، جبکہ بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا بھی اس پر انحصار کرتے ہیں۔ ان ممالک کو ہنگامی ذخائر استعمال کرنا پڑ سکتے ہیں، اور ایندھن کی قلت معاشی خلل پیدا کر سکتی ہے۔

افریقہ پر اثرات
مشرقی افریقی ممالک جیسے کینیا اور تنزانیہ، جو ہرمز کے راستے سے تیل درآمد کرتے ہیں، انہیں بھی ایندھن کی قیمتوں میں زبردست اضافے کا سامنا ہوگا۔ 2024 میں ہی ان علاقوں میں ٹینکر کرایوں میں 25 سے 35 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

کیا ایران واقعی آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے؟
تکنیکی طور پر ہاں۔ ایران کے پاس نیول مائنز، اینٹی شپ میزائلز اور جی پی ایس جیمنگ جیسے ہتھیار موجود ہیں۔ 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران اس نے بحری آمدورفت میں رکاوٹ ڈالی تھی، اگرچہ مکمل بندش نہیں کی گئی۔

تاہم، مکمل بندش خود ایران کے لیے نقصان دہ ہو گی، کیونکہ وہ بھی روزانہ 25 لاکھ بیرل تیل اسی راستے سے برآمد کرتا ہے، جن میں سے ڈیڑھ ملین بیرل صرف چین کو بھیجے جاتے ہیں۔ ایسی کسی کارروائی پر امریکہ کی قیادت میں ممکنہ فوجی ردعمل کا بھی خطرہ موجود ہے۔

عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات
اگر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا تو دنیا کو 1973 کے تیل بحران جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں، جس سے مہنگائی اور رسد کا بحران پیدا ہو گا۔ عالمی سطح پر اشیاء کی ترسیل متاثر ہو گی اور قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔

اگرچہ امریکہ، یورپ اور ایشیا کے پاس تیل کے اسٹریٹجک ذخائر موجود ہیں، مگر ان کا استعمال محدود اور وقتی ریلیف فراہم کر سکتا ہے۔

صورتحال اس وقت کہاں کھڑی ہے؟
23 جون 2025 تک آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے، لیکن برینٹ تیل کی قیمت حالیہ ہفتوں میں 75 سے 82 ڈالر فی بیرل ہو چکی ہے۔ ایران کی دھمکیوں کے بعد امریکہ نے اپنے دو بحری طیارہ بردار گروپس USS Nimitz اور USS Carl Vinson کو خطے میں تعینات کر دیا ہے تاکہ سمندری سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر شیل کے سی ای او وائل ساوان نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی بڑھی تو یہ "عالمی تجارت کو شدید متاثر کر سکتی ہے”۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button