
خلیج اردو
دبئی: دبئی پولیس نے الوصل اور شباب الاہلی فٹبال کلبز کے درمیان یو اے ای پرو لیگ کے میچ کے بعد ہنگامہ آرائی میں ملوث متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے بدھ کے روز اس کارروائی کی تصدیق کی۔
پولیس کے مطابق میچ کے اختتام کے فوراً بعد تحقیقات شروع کی گئیں، جس میں نگرانی کیمروں کی فوٹیج اور ویڈیو تجزیے کے ذریعے ان افراد کی شناخت کی گئی جو بدنظمی اور عوامی امن میں خلل ڈالنے کے ذمہ دار تھے۔
یہ لیگ میچ ہفتہ، 3 مئی کو زبیل اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جس میں الوصل نے شباب الاہلی کو 1-2 سے شکست دی۔
گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے اور انہیں متعلقہ حکام کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
ادھر، متحدہ عرب امارات کی فٹبال ایسوسی ایشن کی ڈسپلنری کمیٹی نے بھی دونوں کلبز پر بھاری جرمانے عائد کیے ہیں۔
شباب الاہلی کلب کو 70 ہزار درہم جرمانہ کیا گیا کیونکہ ان کے شائقین نے مخالف ٹیم کے مداحوں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی اور پانی کی بوتلیں میدان اور شائقین پر پھینکیں۔
الوصـل کلب پر 80 ہزار درہم جرمانہ عائد ہوا کیونکہ ان کے شائقین نے اسموک فلیئر جلایا، مخالف ٹیم کے خلاف نعرے بازی کی اور اشیاء کو میدان اور دوسرے تماشائیوں کی طرف پھینکا۔
دبئی پولیس نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اسٹیڈیمز میں شدت پسندی اور غیر مہذب رویوں سے گریز کریں۔
پولیس کے ایک ترجمان نے کہا:
"کھیلوں کا مقصد تفریح، صحت مند مقابلے اور شائقین کے درمیان باہمی احترام کو فروغ دینا ہے۔ اسٹیڈیمز کو خوشی اور ہم آہنگی کے مقامات ہونا چاہیے، نہ کہ تصادم اور جارحیت کے میدان۔”
پولیس نے خبردار کیا ہے کہ وہ سیکیورٹی پروٹوکول یا شائقین کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گی۔ اسٹیڈیمز کی سیکیورٹی، شرکاء کا تحفظ، گاڑیوں کی نگرانی اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی اس کی اولین ترجیح ہے۔
قبل ازیں، فٹبال ایسوسی ایشن نے اتوار کو العین اور الجزیرہ کے درمیان میچ میں فرائض انجام دینے والے ریفری ٹیم کو معطل کر دیا تھا۔ یہ معطلی سیزن کے اختتام تک برقرار رہے گی اور یہ فیصلہ ریفری کمیٹی کے داخلی قواعد کے تحت کیا گیا ہے۔







